بھارتی اداکار عمران خان نے 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کے حکومتی نوٹس کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکام نے ان کی اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) حیثیت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا اور انہیں ملک سے جانے کا حکم دیتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
’گلف نیوز‘ کے مطابق، 44 سالہ اداکار نے ہفتے کے روز بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی۔ یہ درخواست غیر ملکیوں کے علاقائی رجسٹریشن دفتر (ایف آر آر او) کی جانب سے 14 اکتوبر کو جاری کیے گئے ’لیو انڈیا‘ نوٹس کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
یہ نوٹس 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگست کرانتی میدان کے قریب عمران خان کو حراست میں لیے جانے کے بعد جاری ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران وہاں موجود تھے، جس پر حکام نے ان پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
عمران خان امریکی شہری ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ دو سال کی عمر سے بھارت میں مقیم ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکام نے انہیں صرف امریکی شہری کے طور پر دیکھا اور ان کی او سی آئی رجسٹریشن کی قانونی اہمیت کو نظرانداز کیا۔ اداکار کے مطابق، ان کی او سی آئی حیثیت بھارت میں رہائش کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے اور مناسب قانونی کارروائی کے بغیر انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دینا ان کے حقوق، بشمول بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت تحفظات، کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں نوٹس کو سرکاری اختیارات کا غیر ضروری اور حد سے بڑھی ہوئی صورت میں استعمال قرار دیا گیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی احتجاجی مقام کے قریب موجود ہونا یا نقل و حرکت پر پابندیوں کے بارے میں تشویش ظاہر کرنا انہیں بھارت سے نکل جانے کا حکم دینے کے لیے کافی بنیاد نہیں ہوسکتا۔
اداکار نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ان کا احتجاج منعقد کرنے والی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ محض تجسس کے باعث اس علاقے میں گئے تھے۔ ان کے مطابق، جب پولیس نے انہیں بتایا کہ وہاں پابندیاں عائد ہیں تو انہوں نے اس ہدایت پر عمل کیا۔ انہوں نے ہجوم کو اکسانے کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کو نظرانداز کیا۔ درخواست کے مطابق، وہ اپنی گاڑی کی جانب واپس جارہے تھے کہ میڈیا کے نمائندوں کے جمع ہونے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
عمران خان کی درخواست میں امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کے تحت ایف آر آر او کے نوٹس جاری کرنے کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی مقام کے اطراف پابندیاں مقامی پولیس نے لگائی تھیں اور مرکزی حکومت نے اس مقام کو باضابطہ طور پر ممنوعہ جگہ قرار نہیں دیا تھا۔
اس معاملے میں ایف آر آر او نے ایک الگ شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے، جس میں اداکار سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 7D(e) کے تحت ان کی او سی آئی رجسٹریشن کیوں منسوخ نہ کی جائے۔ یہ شق مخصوص بنیادوں، جن میں قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفاد شامل ہیں، پر او سی آئی رجسٹریشن منسوخ کرنے سے متعلق ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
’گلف نیوز‘ کے مطابق، عمران خان کو جواب دینے کے لیے 15 دن دیے گئے ہیں۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں وضاحت جمع نہ کرانے پر حکام مزید کارروائی کرسکتے ہیں۔
اداکار نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ملک چھوڑنے کے نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک اس پر عمل درآمد روک دیا جائے۔ ان کے وکلا پیر کے روز بمبئی ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے فوری سماعت کی درخواست پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔