فرانس میں مظاہروں کی آڑ میں لوٹ مار؛ ایپل اور مہنگے برانڈز کے اسٹور لُوٹ لیے گئے

ایپل، لوئی وٹون اور ہرمیس جیسے عالمی شہرت یافتہ اور لگژری برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی


ویب ڈیسک October 19, 2026
ایپل، لوئی وٹون اور ہرمیس جیسے عالمی شہرت یافتہ اور لگژری برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

فرانس میں مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کیخلاف احتجاج پُرتشدد صورت اختیار کرگیا جہاں نقاب پوش افراد نے ایپل، لوئی وٹون اور ہرمیس سمیت معروف برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے دارلاحکومت شہر پیرس اور بڑے شہروں مارسیل، بورڈو اور لیل سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ان شہروں میں مظاہرین میں شامل بعض افراد نے مہنگے ملبوسات، برقی آلات، سپر مارکیٹوں اور دیگر دکانوں کے شیشے توڑے اور اندر داخل ہوکر قیمتی سامان بھی چوری کیا۔

احتجاج کے دوران حفاظتی خدشات کے باعث بعض بڑے تجارتی اداروں نے اپنی دکانیں عارضی طور پر بند بھی کردیں جس کا فائدہ شرپسندوں نے اُٹھایا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں جبکہ جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہروں کی آڑ میں تشدد اور لوٹ مار کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 

ان کی ہدایت پر حکام نے اب متاثرہ کاروباروں کی بحالی اور مزید بدامنی روکنے کے اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ احتجاج فرانس میں بڑھتی مہنگائی کے علاوہ تعلیمی سہولتوں کی کمی، سرکاری خدمات کے معیار اور حکومتی اخراجات پر عوامی عدم اطمینان کے باعث شدت اختیار کرگیا۔