معاشی ترقی کی رفتار 2 فیصد، صنعتی شعبہ 4۔7 فیصد سکڑ گیا

درآمدی اعدادوشمار میں 5 مالی سالوں کے دوران 14.8 ارب ڈالرکا اضافہ


شہباز رانا October 20, 2026

اسلام آباد:

پاکستان کی معیشت کی شرح نمو گزشتہ مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی (اپریل تا جون) میں کم ہو کر 2 فیصد رہ گئی،جس کی بنیادی وجہ صنعتی شعبے میں 4۔7 فیصد سکڑاؤ ہے۔

حکومت نے گزشتہ پانچ مالی سالوں کے درآمدی اعداد و شمارمیں نظرثانی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 14.8 ارب ڈالرکااضافہ کیاہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، قومی حسابات کمیٹی (این اے سی) نے اپنی 118ویں نشست میں چوتھی سہ ماہی کی شرح نمو کے نئے اعداد و شمار اور درآمدات کے نظرثانی شدہ ڈیٹاکی منظوری دی۔

کمیٹی کے مطابق گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں6.1 فیصدکی بلندشرح نموکے باعث رواں سال کی متعلقہ سہ ماہی میں ترقی کی رفتار محدود رہی۔

نظرثانی کے بعد مالی سال 2024-25 کی سالانہ شرح نمو بھی معمولی کمی کے ساتھ 3.65فیصد مقررکی گئی۔

پی بی ایس کے مطابق، گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں زرعی شعبے نے3.7 فیصد ترقی کی، اہم فصلوں کی پیداوار میں 2۔2 فیصداضافہ ریکارڈکیاگیا،جس میں گندم،چاول اورگنے کے سالانہ تخمینوں میں بہتری نے کردار اداکیا۔

صنعتی شعبے کی ترقی میں 4.7 فیصدکمی ہوئی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں اس شعبے نے 20 فیصدنمو ریکارڈکی تھی،حکومت نے اس کمی کی ایک وجہ گزشتہ سال کی غیرمعمولی بلندشرح نموکوقرار دیاہے۔

رپورٹ کے مطابق، مالی استحکام کیلیے جاری اقدامات، توانائی پر سبسڈی میں کمی،علاقائی کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معیشت کی طلب اور رسمی صنعتی سرگرمیوں کومتاثرکیا۔

کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں 8.9 فیصد اضافہ ہوا،گیس پیداوار میں 11.73 فیصد، تیل میں 22.20 فیصد اورکوئلے کی پیداوار میں8.17 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا،بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں صرف 0.41 فیصد نمو ہوئی،جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح 2.97 فیصد تھی۔

بجلی،گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 33۔2 فیصدکمی ہوئی، جبکہ تعمیراتی شعبے نے سیمنٹ کی زیادہ پیداوار اور سرکاری ترقیاتی اخراجات کے باعث 3.52فیصدنمو ریکارڈکی۔خدمات کے شعبے نے آخری سہ ماہی میں 3.62 فیصد ترقی کی۔

درآمدی سرگرمیوں میں کمی کے باوجودتھوک اور پرچون تجارت میں 0.75 فیصد اضافہ ہوا،جبکہ نقل و حمل اورذخیرہ کاری کے شعبے کی نمو 3۔3 فیصد رہی۔قومی حسابات کمیٹی نے مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک درآمدات کے اعدادوشمار میں نظرثانی کی منظوری دی۔

پی بی ایس کے مطابق تبدیلی کی بنیادی وجہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈکے نظام سے پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے درآمدی ڈیٹامرتب کرنے کی جانب منتقلی ہے،جس کے تحت زیادہ جامع معلومات دستیاب ہوئیں۔

روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون نے گزشتہ سال درآمدی اعداد وشمارمیں فرق کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعدحکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ڈیٹاکاجائزہ لیا۔ ابتدائی طور پر دومالی سالوں کے درآمدی اعدادوشمار میں تقریباً 11 ارب ڈالرکی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔