لاہور قلندرز کی بنگلادیش پریمیئر لیگ میں شمولیت میں دلچسپی

ثمین رانا نے بنگلادیش کرکٹ سے اپنی وابستگی اور بی پی ایل میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا


میاں محمد اصغر October 20, 2026

لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا نے بنگلادیش پریمیئر لیگ میں مستقبل میں سرمایہ کاری اور فرنچائز کے طور پر شمولیت میں دلچسپی ظاہر کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مناسب کاروباری موقع ملا تو وہ ایونٹ کا حصہ بننا پسند کریں گے۔

بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ ایڈیشن کو ملتوی کر دیا ہے، صدر کرکٹ بورڈ تمیم اقبال بھی مختلف مواقع پر عندیہ دے چکے کہ مقررہ ضابطوں اور شرائط پر پورا اترنے والی غیر ملکی فرنچائزز کو لیگ میں شامل ہونے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

ثمین رانا ہفتے کو شیخ زاید اسٹیڈیم ابوظبی میں بنگلادیش اور زمبابوے کے درمیان ٹرائنگولر سیریز کا میچ دیکھنے کے لیے آئے، انہوں نے وہاں تمیم اقبال کے ساتھ خاصا وقت گزارا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمین رانا نے بنگلادیش کرکٹ سے اپنی وابستگی اور بی پی ایل میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بنگلادیش میرے دل کے بہت قریب ہے، میں طویل عرصے سے کسی نہ کسی حیثیت میں بنگلادیش کرکٹ کے ساتھ کام کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہوں، اگر مستقبل میں کوئی مناسب موقع سامنے آیا تو قلندرز بی پی ایل کا حصہ بننے پر ضرور غور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلادیش اور پاکستان میں کرکٹ کے لیے موجود غیر معمولی جذبے کو دیکھتے ہوئے اس لیگ کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مل کر کام کرنے کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا کوئی راستہ نکلتا ہے جس سے تمام فریقوں کو فائدہ ہو تو ہم اس میں بھرپور دلچسپی لیں گے۔

ثمین رانا نے بتایا کہ تمیم اقبال کے ساتھ گفتگو میں فرنچائز کرکٹ کے تجربات اور لیگ کے نظام کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال بھی شامل تھا، ہم گزشتہ 11 برس سے پاکستان سپر لیگ سے وابستہ ہیں جبکہ جنوبی افریقا کی گلوبل لیگ اور ٹی ٹین کرکٹ کے مختلف مقابلوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

ہم کرکٹ کینیڈا کے ساتھ بھی رابطے میں رہے ہیں، ان تجربات کے دوران ہم نے فرنچائز کرکٹ کے انتظامی معاملات، ترقی اور بہتری کے حوالے سے کافی کچھ سیکھا جس سے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز نے حال ہی میں گیانا کی وزارت نوجوانان و ثقافت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت وہاں سے کھلاڑی تربیت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

اس سے قبل زمبابوے کے 8 کھلاڑی بھی اسلام آباد کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں 6 ہفتے گزار چکے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بنگلادیش کے نوجوان کرکٹرز بھی پاکستان آ کر جدید تربیتی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔