نئی آٹو پالیسی کے تحت 5 سال میں 6 ارب ڈالر مالیت کی گاڑیاں برآمد کرنے کا ہدف مقرر

وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد کابینہ کے سامنے اس پالیسی کو منظور کرنے کیلیے پیش کیا جائے گا


ارشاد انصاری October 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منظورکردہ نئی آٹو پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال میں گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانےکا ہدف مقرر کردیا گیا ہے، پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائےگا۔

نئی آٹو پالیسی میں 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف کی تجویز ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کرنے اور مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے منظورکردہ نئی آٹو پالیسی میں 15 ہزار ڈالر سےکم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف کی تجویز ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کرنے اور مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز ہے۔ ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی عائدکی جائےگی۔

آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی برآمدات 2031-2030 تک 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کیے جائیں گے۔

برآمدات بڑھانے پر کمپنیوں کو برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے کی تجویز ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات اور برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

مسلسل دو سال برآمدی اہداف پورے نہ ہونے پر مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جائےگا اور برآمدی ہدف مسلسل پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کی مراعات واپس لے لی جائیں گی۔

پالیسی کے تحت 5 سال میں232 ارب روپے سے زائد آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی وصولی کا تخمینہ ہے۔ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے برآمدی مراعات اور صنعتی ترقی کے پروگرام چلائے جائیں گے۔

پالیسی میں آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز مختص کرنے، پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام ،آٹو سیکٹر میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے فنڈنگ کی تجاویز شامل ہیں۔

نئی آٹو پالیسی میں مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی تجویز ہے، آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں خریداروں کے تحفظ کی شرائط شامل کی جائیں گی آٹو سیکٹر کا سال میں دو مرتبہ تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کی تجویز ہے۔

آٹو سیکٹر میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے کی تجویز ہےآٹو پالیسی کے تحت آٹوموٹو ڈیولپمنٹ لیوی سے متعلق قانون دسمبر2026 تک بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔