مریخ پر نمودار ہونے والے پُراسرار بادل سے متعلق انکشاف!

تحقیق میں زیرِ بحث بادل کو آرسیا مونس ایلونگیٹڈ کلاؤڈ کا نام دیا گیا ہے


ویب ڈیسک October 22, 2026

مریخ پر ہر موسمِ گرما میں روزانہ نمودار ہونے والے ایک غیر معمولی سفید بادل نے سائنس دانوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق یہ بادل ممکنہ طور پر فضا میں موجود مادّے کے اچانک منجمد ہونے کے نتیجے میں بنتا ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ہوموجینیئس نیوکلی ایشن کہا جاتا ہے۔

تحقیقاتی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت سوربون یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر جارجے ہرنانڈیز برنال نے کی۔ محققین کے مطابق یہ مظہر اس بات کی پہلی حقیقی اور دستاویزی مثال ہو سکتا ہے کہ فضا میں بادل بننے کا عمل روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر بھی رونما ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں زیرِ بحث بادل کو آرسیا مونس ایلونگیٹڈ کلاؤڈ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تقریباً 1800 کلومیٹر طویل اور انتہائی باریک سفید بادل ہے، جو مریخ کے آتش فشاں آرسیا مونس کے مغرب میں نمودار ہوتا ہے۔ آرسیا مونس تقریباً 20 کلومیٹر بلند ایک غیر فعال ڈھال نما آتش فشاں ہے۔

سائنس دان کئی دہائیوں سے اس بادل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ مریخ کے موسمِ گرما کے دوران روزانہ نمودار ہوتا ہے، چند گھنٹوں تک فضا میں موجود رہتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اگلی صبح یہ دوبارہ اسی علاقے میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود روایتی فضائی ماڈلز اب تک اس کی تشکیل کے عمل کی تسلی بخش وضاحت نہیں کر سکے۔

ماہرین کے مطابق بادلوں کی تشکیل کے روایتی عمل میں مرطوب ہوا اوپر اٹھتی ہے تو پھیلنے کے باعث ٹھنڈی ہو جاتی ہے، جس سے اس کی نسبتی نمی بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، پانی کے بخارات کے سالمات خود سے جڑ کر قطرے بنانے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں، کیونکہ سطحی کشش کے باعث انتہائی چھوٹے قطرے بنتے ہی دوبارہ بخارات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

عام طور پر بادلوں کی تشکیل کے لیے دھول یا دیگر باریک ذرات جیسے ذیلی مراکز درکار ہوتے ہیں، جن کے گرد پانی کے بخارات جمع ہو کر قطرے بناتے ہیں۔ لیکن ہوموجینیئس نیوکلی ایشن کے نظریے کے مطابق مخصوص حالات میں پانی کے سالمات ایسے ذرات کی مدد کے بغیر بھی براہِ راست قطرے بنا سکتے ہیں۔

سائنس دان اب تک اس عمل کو زیادہ تر تجربہ گاہوں تک محدود ایک نظریاتی امکان سمجھتے رہے ہیں۔ اگر مریخ کے اس بادل کی تشکیل واقعی اسی طریقے سے ہوتی ہے تو یہ دریافت سیاروں کے ماحول میں بادل بننے کے عمل کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

محققین کی یہ تجویز مریخ کے موسمی نظام اور وہاں موجود فضائی حالات کے بارے میں مزید تحقیق کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ تاہم، اس بادل کی تشکیل کے اصل طریقہ کار کی حتمی تصدیق کے لیے مزید مشاہدات اور سائنسی تحقیق ضروری ہوں گے۔