بھارتی اداکار رام کپور نے واضح کیا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات جسمانی ورزش کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوا کے ذریعے وزن کم کرنے کے باوجود جسم کو متحرک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صرف وزن میں کمی پر توجہ دینے سے پٹھوں کی مقدار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رام کپور نے 2024 میں اپنے وزن میں نمایاں کمی کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد وزن کم کرنے کے لیے ادویات استعمال کرنا چاہتے ہیں، انہیں پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ تاہم، دوا لینے کا مطلب یہ نہیں کہ ورزش کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اداکار نے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو ان کے وزن میں کمی کو ورزش کے بغیر حاصل ہونے والی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرامہ سیریل ’بڑے اچھے لگتے ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران ان کا معمول انتہائی مصروف تھا۔ وہ مسلسل کئی دن کام کرتے رہتے تھے اور اسی عرصے میں انہیں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سمیت مختلف طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹر نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے طرزِ زندگی تبدیل نہ کیا تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، حتیٰ کہ فالج کا بھی اندیشہ تھا۔
اداکار کے مطابق، ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کا وزن 140 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔ حالت یہ تھی کہ محض 20 قدم چلنے کے بعد ان کی سانس پھولنے لگتی تھی۔ اس صورت حال نے انہیں ورزش شروع کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے دو مرتبہ تقریباً 30، 30 کلوگرام وزن کم کیا، تاہم ان کے بقول، اس وقت اختیار کیے گئے طریقے طویل مدت تک مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
رام کپور نے بتایا کہ ماضی میں وہ روزانہ تین مرتبہ انسولین لیتے تھے، لیکن وزن میں کمی کے بعد اب وہ اپنی زندگی کی بہترین جسمانی فٹنس محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزن گھٹانے کا کوئی ایسا آسان راستہ نہیں جو ورزش کی اہمیت ختم کردے۔