فرانس میں پرتشدد ہنگامے، میکرون نے ٹرمپ اور نیتن یاہو پر سیاست چمکانے کا الزام لگا دیا

ٹرمپ نے فرانس میں ہنگاموں کو تارکینِ وطن، جہادیوں اور کمیونسٹوں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی


ویب ڈیسک October 22, 2026

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بعض عالمی رہنما فرانس میں جاری بدامنی کو اپنے سیاسی مفادات اور انتخابی مہم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ میکرون نے یہ بیان قطر کے دورے کے دوران دیا، جہاں فرانس میں مزید احتجاجی مظاہروں کی تیاری جاری تھی۔

دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ کچھ رہنما فرانس کی قیمت پر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کے بقول، خطے اور بحرِ اوقیانوس کے دوسری جانب موجود بعض رہنما انتخابی سیاست میں مصروف ہیں اور فرانس میں ہونے والے واقعات پر غیر سنجیدہ تبصرے کر رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ٹرمپ یا اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ دونوں رہنماؤں کی جانب سمجھا گیا۔

ٹرمپ نے فرانس میں ہنگاموں کو تارکینِ وطن، جہادیوں اور کمیونسٹوں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی، جبکہ نیتن یاہو نے فرانس میں شدت پسند اسلام کے مبینہ پھیلاؤ کا دعویٰ کیا۔ دوسری جانب متعدد تجزیہ کاروں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں کے پیچھے تارکینِ وطن کے کردار کے دعوؤں کی تائید کے لیے کافی شواہد سامنے نہیں آئے۔

فرانس میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر نقاب پوش نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دکانیں لوٹی گئیں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ فرانسیسی حکومت نے اعتراف کیا کہ تشدد کے دوران صورتِ حال اس کے قابو سے باہر ہو گئی تھی۔ ان واقعات کے بعد پیرس اور دیگر شہروں کے بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

میکرون نے کہا کہ وہ جمعرات کو اہم وزرا اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ اجلاس کریں گے تاکہ گزشتہ ہفتے کے واقعات کی تفصیلی رپورٹ حاصل کی جا سکے۔ فرانسیسی وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے بھی ہفتے کو ہونے والے نئے مظاہروں کے لیے پولیس کی بڑی تعداد تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مظاہرے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف ہیں، جن میں ییلو ویسٹ تحریک بھی شریک ہے۔

فرانس میں بدامنی نے ملکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سرکاری قرضوں اور بجٹ خسارے پر سرمایہ کاروں کی تشویش کے باعث فرانسیسی حکومت کے 10 سالہ بانڈ پر منافع کی شرح بدھ کو پانچ فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ پیرس اسٹاک مارکیٹ میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ خبر کے مطابق، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز سے جمعے کو فرانس کے سرکاری قرضوں کی درجہ بندی کم کرنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

فرانس میں آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول بھی کشیدہ ہے۔ تازہ سروے میں دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین پہلے مرحلے میں نمایاں برتری کے ساتھ دکھائی گئی ہیں، جبکہ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں کو ممکنہ دوسرے مرحلے کے مقابلے میں ان کا حریف بتایا گیا ہے۔