4 سال میں ٹرینوں کے 349 حادثات، عملے کی غلطیوں کا بھی انکشاف

2022 سے ستمبر 2026 تک ٹرینیں پٹری سے اترنے کے واقعات کی بڑی وجہ ریلوے ٹریک کی خرابی بنی، قومی اسمبلی میں بریفنگ


اسٹاف رپورٹر October 22, 2026

پاکستان ریلوے میں ساڑھے چار سال کے دوران ٹرینیں پٹری سے اترنے کے 349 واقعات پیش آئے جن میں سے 95 واقعات عملے کی غلطی کی وجہ سے ہوئے۔

قومی اسمبلی میں ریلوے حادثات کی وجوہات، انسدادِ ڈینگی اقدامات اور ایچ آئی وی و ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔

قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ جنوری 2022 سے ستمبر 2026 تک ٹرینیں پٹری سے اترنے کے 349 واقعات پیش آئے، جن میں سب سے بڑی وجہ ریلوے ٹریک کی خرابی بنی۔

95 واقعات عملے کی غلطی اور 64 رولنگ اسٹاک کی خرابی کے باعث پیش آئے جبکہ 120 مقدمات تاحال زیر التوا ہیں۔ 331 واقعات کی تحقیقات مکمل کی جا چکی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر نیا ٹریک بچھانے کے لیے ڈھائی ارب ڈالر کا منصوبہ ایم ایل ون کا حصہ ہوگا، جس سے حادثات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کے تحریری جواب کے مطابق اسلام آباد میں جون سے ستمبر 2026 تک ڈینگی کے 7 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، تاہم کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

انسدادِ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 214 ایف آئی آر درج کی گئیں، جبکہ 12 لاکھ 93 ہزار سے زائد مقامات پر لاروا کی روک تھام کے اقدامات کیے گئے۔ایوان کو بتایا گیا کہ ایچ آئی وی کے انسداد کے لیے 2026 سے 2031 تک قومی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے 12 سال اور اس سے زائد عمر کے اہل افراد کی مفت اسکریننگ، تشخیص اور علاج کا پروگرام جاری ہے۔

اسلام آباد میں اس مقصد کے لیے 40 مراکزِ صحت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

اجلاس میں نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2026قومی اسمبلی میں پیش اوگرا ترمیمی آرڈیننس 2026 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جبکہ اسلام آباد مقامی حکومت ترمیمی بل 2026 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی اور لائف انشورنس نیشنلائزیشن  ترمیمی بل 2026قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔