سانس لینے میں دشواری ہو تو کیا کریں؟ روزمرہ عادات میں یہ تبدیلیاں مفید ہو سکتی ہیں

دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو رات کے وقت علامات بڑھنے کا سامنا ہو سکتا ہے


ویب ڈیسک October 24, 2026

ناک بند ہونے، نزلہ زکام یا سانس کی بعض بیماریوں کے باعث رات کے وقت سانس لینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ کچھ افراد نیند کے دوران اچانک بیدار ہو کر بیٹھ جاتے ہیں، جبکہ بعض لوگ ناک کے بجائے منہ سے سانس لینے لگتے ہیں، جس سے گلا خشک ہو سکتا ہے۔

اگر یہ مسئلہ بار بار ہو تو نیند متاثر ہونے کے ساتھ دن بھر تھکاوٹ اور معمولاتِ زندگی میں مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو رات کے وقت علامات بڑھنے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم نیند کے دوران سانس رکنے یا بار بار بیدار ہونے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے مستقل یا شدید علامات کو محض کمزور پھیپھڑوں کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

متوازن غذا:

پھلوں، سبزیوں، اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین پر مشتمل متوازن غذا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ صحت مند خوراک جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرتی ہے، لیکن کسی ایک غذا سے پھیپھڑوں کی تمام بیماریوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی۔

مناسب مقدار میں پانی:

دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا جسم میں پانی کی کمی سے بچانے اور بلغم کو نسبتاً پتلا رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ البتہ ہر شخص کی پانی کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ دل یا گردوں کی بعض بیماریوں میں پانی کی مقدار محدود رکھنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے، اس لیے ایسی صورت میں معالج کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔

ورزش، واک اور یوگا:

باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور بعض سانس کی مشقیں جسمانی برداشت بہتر بنانے اور سانس پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم سانس کی بیماری میں مبتلا افراد اپنی استطاعت کے مطابق سرگرمی اختیار کریں۔ اگر ورزش کے دوران سانس غیر معمولی طور پر پھولے یا سینے میں تکلیف ہو تو سرگرمی روک کر طبی مشورہ لینا چاہیے۔

بھاپ اور ناک کی بندش:

گرم پانی کی بھاپ بعض افراد کو عارضی طور پر ناک بند ہونے میں راحت محسوس کرا سکتی ہے، لیکن اس کے فوائد کے شواہد محدود ہیں اور کھولتے پانی سے بھاپ لینے پر جلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی صورت میں نمکین پانی کا ناک کا اسپرے بھی بعض افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

فضائی آلودگی سے بچاؤ:

دھواں، گردوغبار اور آلودہ ہوا سانس کی علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ آلودگی زیادہ ہونے پر غیر ضروری بیرونی سرگرمیاں محدود کرنا، دھوئیں سے دور رہنا اور تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنا مددگار ہو سکتا ہے۔

اگر سانس لینے میں اچانک یا شدید دشواری ہو، سینے میں درد محسوس ہو، ہونٹ نیلے پڑنے لگیں یا بات کرنا مشکل ہو جائے تو فوری ہنگامی طبی مدد حاصل کریں۔ رات کے وقت بار بار سانس رکنے، ہانپتے ہوئے جاگنے یا مسلسل تھکاوٹ کی صورت میں بھی ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے، کیونکہ اس کی وجہ دمہ، نیند میں سانس رکنے کی بیماری یا کوئی اور طبی مسئلہ ہو سکتی ہے۔