سیاست دانوں کی ذمے داری

کے پی میں پولیس بلوچستان کے مقابلے میں دہشت گردوں کا زیادہ نشانہ رہی اور وفاق سے انھیں بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں جو واپس کر دی گئی تھیں۔


[email protected]

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام جماعتیں مل بیٹھیں تو وزیر اعظم بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کئی بار کہا تھا کہ وہ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے جبکہ بلوچستان حکومت پورا تعاون کر رہی ہے۔

 وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی رنگ دینا نہیں چاہیے کیونکہ دہشت گردی سیاسی نہیں قومی مسئلہ ہے جس سے کے پی اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلے عشرے میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ نہیں ہوا جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی مسلسل جاری ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن بھی جاری ہیں اور ضلع قلات میں اور گوادر کی تحصیل پسنی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر وجاہت وحید شہید ہو گئے جبکہ چار دہشت گرد بھی ہلاک کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری رہیں گے وژن، عزم و استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کے خلاف مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ صدر مملکت آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے میجر وجاہت وحید کی شہادت پر افسوس کا اظہار اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حکومتی شخصیات کے علاوہ دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے ایک اور فوجی افسر کی شہادت پر پی ٹی آئی کے کسی رہنما کا کوئی تعزیتی بیان سامنے نہیں آیا ۔

کے پی اور قبائلی علاقوں اور فاٹا میں دیگر قبائلی رہنما بھی دہشت گردی کا ٹارگٹ رہے ہیں جن کی خبریں بھی میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔پی ٹی آئی کی 13 سالہ کے پی حکومت میں تحریک انصاف کا کوئی رہنما دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا نہ کبھی ان کے جلسوں، ریلیوں اور حالیہ ایک ہفتے سے کے پی میں جاری لانگ مارچ میں بھی وہ سب محفوظ رہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بانی اور پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے سلسلے میں نرم رویہ رکھتے ہیں اور پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت میں ٹی ٹی پی کو پاکستان واپس آنے کا موقعہ دیا گیا تھا۔

کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی ٹی ٹی پی نے اعلانیہ مخالفت کی ہے اور وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر الزام ہے کہ وہ اپنے صوبے میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے اور وفاقی حکومت نے جب بھی کے پی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے لیے تعاون مانگا تو کے پی حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا جس کا اظہار وفاقی حکومت اور گورنر کے پی کی طرف سے کیا جاتا رہا مگر وزیر اعلیٰ نے صاف انکار کر دیا۔

کے پی میں پولیس بلوچستان کے مقابلے میں دہشت گردوں کا زیادہ نشانہ رہی اور وفاق سے انھیں بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں جو واپس کر دی گئی تھیں۔ گورنر راج کے بعد وفاق سے پشاور پولیس کو دس جدید بکتر بند گاڑیاں مل چکی ہیں جو حساس مقامات پر استعمال ہوں گی۔

پی ٹی آئی رہنما الزام لگا رہے ہیں کہ وفاق کے پی میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ پہلے ہی کر چکا تھا اور اس سلسلے میں کے پی میں دہشت گردی کے خاتمے میں کے پی حکومت کے عدم تعاون کو جواز بنایا گیا جبکہ کے پی سے زیادہ دہشت گردی بلوچستان میں ہے اور گورنر راج کے پی کی بجائے وہاں لگایا جانا ضروری تھا مگر وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی سیاسی مخالفت میں کے پی میں گورنر راج لگایا ہے۔

بلوچستان میں پی پی اور (ن) لیگ کی اتحادی حکومت کے وزیر اعلیٰ نے جواب میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں میں بلوچستان میں مسلسل وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شروع ہی سے تعاون کیا جاتا رہا ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا تعلق بلوچستان کے پختون علاقے ضلع پشین سے ہے اور بلوچستان میں زیادہ تر دہشت گردی بلوچ علاقوں میں ہو رہی ہے جو عشروں سے جاری ہے اور محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی بھی دہشتگردی کا نشانہ بنے تھے۔

کے پی میں دہشت گردی کا نشانہ مذہبی و قبائلی اہم شخصیات بنی ہیں اور پی ٹی آئی کے سوا دیگر تمام جماعتیں غیر محفوظ رہی ہیں۔ وفاق نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورنر راج لگایا ہے مگر اپوزیشن کی تمام جماعتیں یہ تسلیم نہیں کر رہیں اور کہہ چکی ہیں کہ سیاسی طور پی ٹی آئی حکومت ختم کرنے کے لیے گورنر راج لگایا گیا ہے جس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں نے کرنا ہے۔

کے پی میں اپوزیشن دہشت گردی کو سیاست کی نذرکرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حکومت کے پی میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ اے پی سی اگر منعقد بھی کر لے تو سیاسی طور اس میں صرف حکومتی پارٹیاں شریک ہوں گی اور اپوزیشن کبھی بھی شریک نہیں ہوگی اس لیے دہشت گردی کے خلاف تمام جماعتیں مل کر نہیں بیٹھیں گی ۔دہشت گردی قومی مسئلہ ہے اس لیے لازم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو ۔