طبی ماہرین کے مطابق تیز رفتار سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت میں تبدیلی اور کائنات سے گہرے تعلق کا احساس پیدا کر سکتی ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سانس لینے کی مخصوص تکنیک کے ذریعے بھی انسان شعور کی بدلی ہوئی کیفیت کا تجربہ کر سکتا ہے، جس کے لیے غیر قانونی منشیات کا استعمال ضروری نہیں۔
تحقیق کے مطابق اس طریقے کو ہائی وینٹیلیشن بریتھ ورک (ایچ وی بی) کہا جاتا ہے جس میں تیز اور گہری سانسیں لینے کی مخصوص مشقیں شامل ہوتی ہیں۔ اس طریقے کو آزمانے والے افراد نے کائنات سے گہرے تعلق، ذہنی وسعت اور یکجہتی جیسے احساسات محسوس کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔
محققین نے ان کیفیات کو اوشینک اسٹیٹس کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مشقوں سے پیدا ہونے والے بعض ذہنی اثرات ایل ایس ڈی اور سائیلوسائبن جیسے نفسیاتی اثرات رکھنے والی منشیات کی درمیانی سے زیادہ مقدار کے استعمال سے پیدا ہونے والی کیفیات سے مشابہ ہو سکتے ہیں، البتہ ان میں بصری مناظر یا خیالی تصاویر دیکھنے کے اثرات نسبتاً کم نمایاں ہوتے ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق ان مشقوں کی اہمیت صرف ذہنی کیفیت میں تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ یہ شعور کے انسانی تجربات کو سمجھنے اور ذہنی صحت کے علاج کے نئے طریقوں کی تحقیق میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔
سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سے وابستہ تحقیق کی شریک مصنفہ ہانا اڈولفی کے مطابق سانس لینے کی مشقیں ایک قانونی، کم خرچ اور ادویات کے بغیر استعمال ہونے والا طریقہ ہیں، جو شعور کی بدلی ہوئی کیفیات کے مطالعے کے لیے ایک مفید ذریعہ بن سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کیفیات کے پیچھے موجود عوامل کو سمجھنے سے مستقبل میں ذہنی صحت کے علاج کے نئے طریقوں پر تحقیق کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔