ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، جبکہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں میزائل داغنے والے دو لانچرز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنانے اور ڈرونز کے ذریعے تیل کی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل سعودی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں اور حکام نے شہریوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے شہر کی جانب ممکنہ فضائی خطرے سے خبردار کیا تھا۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے پیر کو بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق صنعا میں دو بیلسٹک میزائل لانچرز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائل کے ذریعے ریاض کے ہوائی اڈے کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جبکہ ڈرونز کے ذریعے تیل پمپ کرنے والے مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔
حوثی ترجمان کے مطابق یمن کی مسلح افواج نے سعودی فوجی اہلکاروں کے اجتماع اور اسلحے کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں یمن کے صوبوں عدن اور لحج میں کی گئیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سعودی اتحاد اور حوثیوں کے بیانات میں حملوں کے نتائج سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ریاض میں مبینہ میزائل حملے سے ہونے والے نقصان یا جانی نقصان کی مزید تفصیلات واضح نہیں ہوئیں۔