اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے شہری کا نام نا نکالنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام کو کل تک نام پی سی ایل سے نکالنے کی مہلت دے دی۔
جسٹس اعظم خان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر آج عدالتی فیصلے پر عمل نا ہوا تو کل سے توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو گی، کل پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکال کر لے آئیں۔
عدالت نے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ حکام کو عدالتی فیصلے پر آج ہی عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی دوبارہ سماعت کی، تو عدالت نےامیگریشن اینڈ پاسپورٹ حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ آپ ہمیشہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہونے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟ کیا عدالتی آرڈرز کی اسکروٹنی کرنے کے لیے کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے، آپ تحریری طور پر عدالت میں جواب جمع کروائیں۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے بہت صبر کر لیا، کتنے ہی کیسز کو نظرانداز کر لیا، آپ افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں؟ آپ یہ کریں گے تو لوگ کہاں جائیں گے؟ کیا آپ لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر سے ہٹانا چاہتے ہیں؟ کیا اس ملک میں اب بیوروکریسی چلے گی؟ عدالتی احکامات کی اسکروٹنی کے لیے کمیٹی کیسے بنا دی گئی؟ آپ اب سپریم کورٹ بن گئے ہیں؟
جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ میں اب غیر مشروط معافی بھی نہیں مانوں گا، توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا، ہم توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں گے، سزا ہوگی اور جیل جائیں گے، میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ چھوڑیں چھوڑیں، اب آپ عدالتوں پر چڑھیں گے؟ ہم سائلین کو کہہ دیں کہ ادھر جائیں عدالتوں میں نہ آئیں؟
پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ ہماری کمیٹی آرڈر کو ریویو نہیں کرتیں نا ہی عدالتی فیصلے کے خلاف جاتی ہیں، عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں اس میں بہتری کی گنجائش ہے، پچھلے ہفتے میٹنگ شیڈول تھی لیکن کسی وجہ سے نہیں ہو سکی۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ایک کیس میں ایجنسیز کی رپورٹس ہیں۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ ایجنسیز کی بھی ہے یا جس کی بھی ہے لیکن آرڈر کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں، جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہو عدالت نہیں چاہے گی کہ اس کو ریلیف ملے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمیں بھی بتا دیں کہ یہ دہشت گرد ہے تو ہم بھی اس کی طرف سے پیش نہیں ہوں گے، جب عدالت نے درخواست منظور کر لی تو ان کو نام فوری نکالنا چاہیے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں کو بے توقیر نا کریں، جو بے بس کمزور ہے وہ ہمارے پاس آتا ہے، جس کے پاس پیسے ہیں وہ تو نکل جاتا ہے، ان بے بس لوگوں کو نا سنا جائے تو یہ عدالتیں نہیں چلیں گی اور یہ سسٹم نہیں چلے گا۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کو روکتے ہیں، رشوت بھی لیتے ہیں، ہمیں سب پتہ ہے، عدالت میں نہیں بولتے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمیں معلوم نہیں، ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، جس درخت سے فروٹ لے رہے ہیں اسی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
قبل ازیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نا نکالنے پر توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کو فوری طور پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
دوران سماعت، ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ نظرثانی کمیٹی میں ہے۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا طریقہ ہے، آرڈر میں لکھ دوں کہ معاملہ کمیٹی میں ہے۔
امیگریشن اینڈ پاسپورٹ حکام نے بتایا کہ یہ ایک مروجہ طریقہ کار ہے جس کے تحت معاملہ دیکھنا ہوتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ کورٹ کے آرڈر کے بعد کون سا میکنزم ہوتا ہے؟ اے جی صاحب آئندہ اگر توہین عدالت آئی تو پھر جو ہوگا آپ دیکھ لینا، ڈی جی کو بلوا لیں ایسے نہیں ہوگا۔
عدالت نے شہری وجاہت حسین کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔