چینی سائنس دانوں نے آرگینک سولر سیلز کو زیادہ مؤثر اور مستحکم بنانے کے لیے ایک نئی تکنیک تیار کرلی ہے جس سے شمسی توانائی کی اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال میں لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ننگبو انسٹی ٹیوٹ آف میٹیریلز ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ کی تحقیقی ٹیم نے پروفیسر جی زی یی کی سربراہی میں یہ پیش رفت کی ہے۔
آرگینک سولر سیلز سلیکون کے بجائے کاربن پر مبنی نامیاتی مواد سے سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان کی تیاری کم لاگت پر ممکن ہے جبکہ یہ ہلکے، لچک دار اور بڑے رقبے پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم، مسلسل روشنی اور حرارت کے باعث ان میں استعمال ہونے والی مخصوص سالماتی تہیں سطح سے الگ ہونے لگتی ہی جس سے ان کی طویل مدتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
محققین نے اس مسئلے کے حل کے لیے ویکیوم کے ذریعے تیار کی جانے والی انڈیم کلورائیڈ کی ایک درمیانی تہہ استعمال کی جو الیکٹروڈ اور ہول ٹرانسپورٹ تہہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بناتی ہے۔
یہ تکنیک ایک مضبوط سالماتی نیٹ ورک تشکیل دیتی ہے جو رابطہ قائم کرنے والی تہوں کو سطح پر یکساں طور پر جکڑ کر رکھتا ہے اور ان کے استحکام میں اضافہ کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ پیشرفت زیادہ مؤثر اور پائیدار آرگینک سولر سیلز کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ تحقیق 21 اکتوبر کو سائنسی جریدے جول میں شائع ہوئی جس میں آرگینک سولر ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے ایک نئی راہ پیش کی گئی ہے۔