شاندار فتح اور حارث رؤف کی تجربہ کاری

پاکستان کرکٹ بورڈ کو کھلاڑیوں کی جسمانی ٹریننگ کے ساتھ تکنیکی تربیت بھی کرنا ہوگی


محمد عمیر دبیر October 27, 2026

کرکٹ کو قسمت کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے، کیونکہ جب کوئی بڑا کھلاڑی میدان میں اترتا ہے تو بعض اوقات وہ کسی ایسی بولر کی گیند پر گولڈن ڈک یا بہت کم رن بناکر آؤٹ ہوتا ہے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔

میچز کے دوران اس طرح کے کئی واقعات ہوئے جن میں ڈیبیو کرنے والے بولرز نے لیجنڈ بلے بازوں کو اپنا ہدف بنایا یا پھر نئے بلے بازوں نے سینئر ترین بولرز کی خوب پٹائی کی۔ مگر ہاں تربیت یافتہ کھلاڑیوں کا تجربہ میدان میں کام ضرور آتا ہے، بالخصوص ایسے لمحات میں جب میچ گو مگو کی کیفیت میں ہو اور کوئی کپتان یا سینئر اپنے صلاحیتوں کی بنیاد پر کسی بلے باز یا بولر کو آزمانے کا فیصلہ کرے۔

اگر کرکٹ کے شعبے میں تجربے کی بات کی جائے تو پاکستانی امپائر علیم ڈار سے زیادہ کسی کا تذکرہ خیر نہیں ہوتا، یعنی اگر کوئی بولر ایل بی ڈبلیو پر اپیل کرتا اور وہ ناٹ آؤٹ قرار دیتے تھے تو تھرڈ امپائر بھی بڑے غور و خوض کے بعد اس فیصلے کو برقرار رکھتا تھا۔

اب آئیے گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے میچ پر جس کی وجہ سے آپ کے سامنے اتنی لمبی تمہید باندھنا پڑی تاکہ آپ کو پس منظر سمجھنے میں آسانی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی میچ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ناقابل یقین فتح حاصل کی اور اس میں شاداب خان کی بلے بازی کا انتہائی اہم کردار رہا۔ جو آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے تو پاکستان کےلیے جیت تقریباً ناممکن تھی کیونکہ اسکور کارڈ پر صرف 102 کا مجموعی اسکور تھا جبکہ 6 اہم کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

شاداب نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 96 گیندوں پر 5 چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 113 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ حارث رؤف کے ساتھ دسویں وکٹ میں 89 رنز کی شراکت قائم کی۔ ایک موقع پر پاکستان کو جیت کےلیے 21 رنز درکار تھے تو گس ایٹکنسن نے شاداب کو ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی تو امپائر نے آؤٹ دے دیا اور پھر شاداب خان مایوس قدموں کے ساتھ پویلین کی جانب جانے لگے جبکہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے بھی فتح ملنے پر ہاتھ ملا لیے تھے۔

نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود حارث رؤف نے شاداب خان کو ری ویو لینے کا مشورہ دیا تو انہوں نے پویلین کی جانب جاتے جاتے رُک کر اشارہ کیا، جس پر امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلے باز کو اندازہ ہوتا ہے کہ گیند کی حرکت کیا تھی، تاہم شاداب شاید پریشر کی وجہ سے سمجھ نہ سکے اور حارث رؤف نے بطور بولر نان اسٹرائیک اینڈ پر کھڑے ہونے کے باوجود گیند کی بلے کے ساتھ ٹکرانے کی آہٹ کو سُن لیا اور یوں پاکستان کو فتح مل گئی۔

گو کہ شاداب اب تک 73 ون ڈے انٹرنیشنل، 126 ٹی 20 جبکہ 6 ٹیسٹ میچز بطور آل راؤنڈر کھیل چکے ہیں اور ان میں انہوں نے مجموعی طور پر 3 ہزار 850 رنز اسکور کیے جبکہ 348 وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو کھلاڑیوں کی جسمانی ٹریننگ کے ساتھ تکنیکی تربیت بھی کرنا ہوگی اور میں ایسی چیزیں شامل کی جائیں کہ انہیں گراؤنڈ میں پریشر ہونے یا نہ ہونے کے باوجود ابہام نہ ہو بلکہ وہ فیصلہ لے سکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
محمد عمیر دبیر
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔