بہنوں کے درمیان محبت، اعتماد اور ایک دوسرے کا ساتھ زندگی کے مختلف مراحل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ بہت سی بہنیں اپنے مسائل، خوف، خواب اور ذاتی باتیں ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں، جس سے انہیں جذباتی سہارا ملتا ہے اور تنہائی کا احساس کم ہوسکتا ہے۔
خاندانی تعلقات پر ہونے والی تحقیق میں بہن بھائیوں کے رشتوں اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جرنل آف فیملی سائیکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ بہن کا ساتھ خود اعتمادی اور جذباتی بہبود پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم، اس کا انحصار رشتے کے معیار، باہمی تعاون اور خاندانی ماحول پر بھی ہوتا ہے۔
بہنوں کے ساتھ بڑے ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ بچپن ہی سے ایک دوسرے کی دوست اور رازدار بن جاتی ہیں۔ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہو، کوئی اہم فیصلہ کرنا ہو یا کسی پریشانی پر بات کرنی ہو، تو ایک قابلِ اعتماد بہن کی موجودگی حوصلہ بڑھا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ہر بہن بھائی کا تعلق ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے صرف بہن ہونے سے ذہنی صحت بہتر ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
کینیڈا کی کونکورڈیا یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات میں بہن بھائیوں کے تعلقات اور بچوں کی سماجی و جذباتی نشوونما پر تحقیق کی گئی ہے۔ ان مطالعات میں قریبی خاندانی رشتوں کے ممکنہ مثبت اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ بہنیں لازماً انسان کو زیادہ ذہین بناتی ہیں۔ ذہانت اور شخصیت کی نشوونما پر تعلیم، ماحول، تربیت اور متعدد دوسرے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی آف السٹر اور ڈی مونفورٹ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات سے منسوب تحقیق کے حوالے سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ بہن بھائیوں کے تعلقات سماجی رابطے اور زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو مختلف انداز میں متاثر کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ہر فرد کا تجربہ مختلف ہوسکتا ہے، کیونکہ رشتے کی مضبوطی اور باہمی تعاون اہم عوامل ہیں۔
اگر آپ کی بہن آپ کی زندگی میں محبت، اعتماد اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کا ذریعہ ہے تو اس رشتے کی قدر کرنا ضروری ہے۔ کبھی کبھار رابطہ کرنا، اس کی بات سننا، اس کی کامیابیوں پر خوش ہونا اور اس کی مدد کرنا تعلق کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایک اچھا خاندانی رشتہ کسی بھی شخص کے لیے جذباتی طاقت کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔