اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے کچھ نہ بدلے گا

صدر ٹرمپ نے کھل کے نیتن یاہو کی حمائیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم دونوں کے لیے ایران سے نپٹنے کا کام ادھورا ہے۔


وسعت اللہ خان October 27, 2026

کیا آپ کو یہ خوش گمانی ہے کہ آج ( ستائیس اکتوبر ) اسرائیل میں جو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں ان میں بنجمن نیتن یاہو ہار جاتے ہیں تو پالیسیوں میں کوئی فرق پڑے گا ؟ بس اتنا فرق پڑے گا کہ ایک کی جگہ دوسرا نیتن یاہو لے لے گا۔ تو پھر اصلی والا کیا برا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کھل کے نیتن یاہو کی حمائیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم دونوں کے لیے ایران سے نپٹنے کا کام ادھورا ہے۔

آج متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت کنیسٹ کی ایک سو بیس نشستوں کی پولنگ میں دراصل دو انتہاپسند انتخابی اتحاد حصہ لے رہے ہیں۔ایک اتحاد نیتن یاہو کو کرپٹ سمجھتا ہے دوسرا نہیں سمجھتا۔ماضی کی لیپاپوتی کے برعکس آج کوئی بھی اسرائیلی دایاں یا بایاں ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست نہیں چاہتا۔اکثریت ان کا وجود مٹانا چاہتی ہے اور ایک دو کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کو بطور نیم انسان زندہ رہنے دیا جائے۔

گزشتہ ماہ حزبِ اختلاف کے پانچ کلیدی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ باہم کیچڑ اچھالنے کے ان کا ہدف صرف نیتن یاہو ہے۔وزارتِ عظمیٰ کے یہ امیدوار یائر لیپڈ کے گھر پر جمع ہوئے۔ان میں بیچاد پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ ، یاشر پارٹی کے لیڈر اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ ، ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر یائر گولان اور یسرائیلی بیتنو ( اسرائیل ہمارا گھر ہے ) کے لیڈر ایوگڈور لبرمین شامل تھے۔

 پانچوں نے عہد کیا کہ وہ نیتن یاہو کو شکست دے کر باہمی نظریاتی فرق کے باوجود ایک ایسی ’’ ذمے دار ، فعال صیہونی حکومت تشکیل دیں گے جو قومی مقاصد کو شکست و ریخت والی پالیسیوں سے نکال کر مشترکہ اہداف حاصل کر سکے ‘‘۔ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں سمجھتا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائی نسل کشی ہے یا وہاں کوئی جنگی جرائم ہوئے ہیں۔انھیں لبنان اور شام میں اسرائیلی توسیع پسندی پر کوئی تحفظ نہیں ، نہ ہی قطر اور ایران پر حملوں پر کوئی تشویش ہے۔بس یہ اعتراض ہے کہ یہ سب کارروائیاں جس بے ڈھنگے انداز میں ہوئیں اس سے اسرائیل کی عالمی ساکھ کو دھچکا لگا ہے۔( یعنی کند چھری پر مکھن لگا لینا چاہیے تھا )۔

نیتن یاہو مخالف اتحاد میں شامل وزارتِ عظمی کے طاقتور امیدوار یاشر پارٹی کے سربراہ اور سابق آرمی چیف ( دو ہزار پندرہ یا انیس ) گادی آئزنکوٹ نے ہی دراصل دو ہزار آٹھ میں ’’ داہیہ ڈاکٹرائن ‘‘ پیش کیا تھا ( داہیہ جنوبی بیروت کا شیعہ اکثریتی علاقہ ہے )۔داہیہ ڈاکٹرائن ہے کہ اگر حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیمیں اسرائیل کے خلاف کوئی مسلح کارروائی کریں تو جوابی کاروائی میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔

آئزنکوٹ نے سابق وزیرِ دفاع بینی گینٹز کے ہمراہ دو ہزار بائیس میں ’’ قومی اتحاد ‘‘ تشکیل دیا اور سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں بھی نو ماہ شامل رہے۔آئزن کوٹ کا بیٹا اور دو بھتیجے غزہ مشن کے دوران ہلاک ہوئے۔لہذا وہ اسرائیلی ووٹروں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔وہ انتہائی مذہبی یہودیوں کی فوج میں شمولیت کے استثنٰی کو ختم کرنے اور سات اکتوبر کے حملے کی چھان بین کے لیے ایک عدالتی کمیشن کے حق میں ہیں۔وہ کسی مخلوط حکومت میں اسرائیل کی عرب جماعتوں کی شمولیت نہیں چاہتے۔

آئزنکوٹ ہتھیاروں کے لیے امریکا پر انحصار کم سے کم کرنا چاہتے ہیں اور ایران کے ساتھ امریکا کی یکطرفہ بات چیت اور لبنان میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کے بھی مخالف ہیں۔

بیچاد پارٹی ( متحد ) کے سربراہ نفتالی بینیٹ اور یش آتذ پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ دو ہزار اکیس بائیس میں ڈیڑھ برس تک چلنے والی مخلوط حکومت میں علی الترتیب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رہے۔دونوں مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آبادکار بستیوں کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کی توسیع کے بھی حق میں ہیں اور فلسطینی ریاست کے امکان کو کلیتاً مسترد کرتے ہیں۔

 دونوں رہنما بیس فیصد اسرائیلی عرب آبادی کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کی آیندہ کسی مخلوط حکومت میں شمولیت نہیں چاہتے اور اپنی سابقہ مخلوط حکومت میں ان عرب جماعتوں کا سہارا لینے کو سیاسی غلطی مانتے ہیں۔

نفتالی بینیٹ ایران سے فیصلہ کن جنگ چاہتے ہیں اور گزشتہ برس قطر پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔وہ ترکی کو علاقے میں اسرائیل کا واحد طاقتور حریف گردانتے ہیں۔

یسرائیل بیتنو پارٹی کے سربراہ ایوگدور لبرمین کا زیادہ تر ووٹ بینک روسی نژاد یہودیوں پر مشتمل ہے۔ ایک زمانے تک وہ نیتن یاہو کے اتحادی اور وزیرِ دفاع تھے مگر اب خود وزارتِ عظمی کے خواہش مند ہیں۔ لبرمین کہتے ہیں کہ غزہ کا کوئی فلسطینی بے گناہ نہیں اور وہاں انسانی امداد کی ترسیل حماس کی مدد کے برابر ہے۔ جب نیتن یاہو نے ستمبر دو ہزار پچیس میں قطر پر فضائی حملے کے بعد ٹرمپ کے دباؤ پر قطر سے معذرت کی تو لبرمین نے اس معذرت کو اسرائیلی عوام کی ہتک قرار دیا۔وہ جنوبی لبنان پر مستقل قبضے کے حق میں ہیں۔

اس اتحاد میں شامل ڈیموکرٹیک پارٹی کے سربراہ سابق ڈپٹی آرمی چیف میجر جنرل ( ریٹائرڈ ) یائر گولان واحد لیڈر ہیں جو خود کو بائیں بازو کا کہتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سابق لیبر پارٹی اور مریٹز پارٹی کے اتحاد سے دو برس پہلے وجود میں آئی۔یائر گولان کا کہنا ہے کہ سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی کے بغیر فوجی کامیابی بے معنی ہے۔گزشتہ برس مئی میں انھوں نے برملا کہا کہ ’’ کوئی عاقل ریاست بطور مشغلہ بچوں کو قتل نہیں کرتی‘‘۔جب اس جملے پر میڈیا اور سیاست میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا تو یائر نے الفاظ واپس لے لیے۔وہ حکومت سازی میں اسرائیلی عرب جماعتوں کی شمولیت کے مخالف نہیں اور یہودی مذہبی طبقے کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کے بھی مخالف ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اگرچہ لبرمین اور گولان کے نظریات کئی معاملات پر متضاد ہیں مگر کوئی بھی نیتن یاہو مخالف مخلوط حکومت ان دونوں کی شمولیت کے بغیر بننا مشکل ہے۔حکومت سازی کے لیے اکسٹھ نشستیں درکار ہیں اور آج تک کسی ایک جماعت نے تنِ تنہا اکثریت حاصل نہیں کی۔ایگزٹ پولز کے مطابق اسرائیلی عربوں کا اتحاد تیرہ نشستیں حاصل کر کے کنگ میکر بن سکتا ہے۔گزشتہ ساٹھ برس میں یہ چھٹے عام انتخابات ہیں۔مگر کوئی بھی جیتے صیہونی نصاب نہیں بدلے گا۔

 نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد میں شامل انتہائی شدت پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کی جماعت عظمی یہودت ( قوتِ یہود ) کا حلقہ مقبوضہ مغربی کنارے کے آباد کار ہیں جو ’’ ہل ٹاپ یوتھ‘‘ کے نام سے فلسطینی زمینیں مسلسل پرتشدد طریقے سے ہتھیا رہے ہیں۔یہ آبادکار ترانوے سالہ رباعی ڈوو لائیور کو اپنا روحانی گرو تسلیم کرتے ہیں۔ انھوں نے انتخابات سے ایک ہفتے پہلے فتوی دیا کہ ’’ فلسطینیوں کے باغات اور زیتون کی فصل اسرائیلیوں کے لیے حلال ہے۔اگر فلسطینی کسان زیتون کی کاشت کے لیے کھیتوں تک نہیں پہنچ پا رہے تو یہ کوئی زیادتی نہیں کیونکہ وہ اب تک بنی اسرائیلیوں سے ہتھیائی گئی زمین سے فائدہ لیتے رہے ہیں۔ان عربوں نے یہاں کے اصل مالکان یعنی یہودیوں سے یہ زمین خریدی نہیں بلکہ چرائی ہے۔‘‘

تاہم گش ایزیون بستی کی مذہبی کونسل اور آرتھوڈکس علما کی تنظیم ضوہار نے رباعی ڈوو لائیور کے فتویٰ سے اختلاف کرتے ہوئے فلسطینی فصلوں کو بلااجازت اٹھانا چوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی ریاست زیتون کے باغات کو عربوں کی ملکیت قرار دیتی ہے کسی کو ان پر قبضے یا نقصان پہنچانے کا حق نہیں۔ ضبطی کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے۔

مگر یہ سب رباعی کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ انھی کے باپ دادا نے اس زمین پر جبراً قبضہ کر کے یہ ریاست اٹھائی ۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)