لاہور ہائی کورٹ میں علامہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کی بازیابی کے لئے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت میں وزارتِ داخلہ رپورٹ جمع نہ کرائی۔
سرکاری وکیل نے جواب داخل کرانے کے لئے مہلت مانگی لی، جسٹس جواد ظفر نے ثروت فاطمہ کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے وزرات داخلہ کو جواب داخل کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت میں ایف آئی اے کی طرف سے تحریری جواب جمع کروا دیا گیا، ایف ائی اے نے اپنے جواب میں کہا کہ حافظ سعد رضوی اور انس رضوی ہمارے پاس نہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کی جبری گمشدگی کو 379 دن مکمل ہوگئے، عدالت دونوں قائدین کی بازیابی کا حکم دے۔