ایف بی آر کا ٹیکس نظام مزید سخت اور ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ

ٹیکس ریٹرنز کی خودکار جانچ کا نظام مختلف دستیاب ڈیٹا کو باہم ملا کر ریٹرن میں غلطیوں، تضادات اور قانونی مسائل کی نشاندہی کرے گا


ارشاد انصاری October 28, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر ) نے ٹیکس نظام مزید سخت اور ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں انٹیگریشن پر ٹیکس کریڈٹ، ریٹرنز کی خودکار جانچ اور اے ٹی ایل کے لیے نئی شرائط عائد کردی گئی ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر نئی ترامیم کے نوٹیفکیشن میں کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے انٹیگریٹ کرنے پر ٹیکس کریڈٹ دینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس رولز کے رول 33 یو کے تحت ٹیکس کریڈٹ کے لیے الیکٹرانک نظام اسی ٹیکس سال میں خریدنا، نصب کرنا اور ایف بی آر سسٹم سے کامیابی سے انٹیگریٹ کرنا ہوگا۔ نئے نظام میں ہارڈویئر، سافٹ ویئر، انسٹالیشن، کنفیگریشن، انٹرفیس ڈیویلپمنٹ، ٹیسٹنگ اور امپلیمنٹیشن کے بعض یک وقتی اخراجات تو کریڈٹ میں شامل ہوسکیں گے۔

مزید برآں انٹرنیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن، تنخواہیں، ٹریننگ، معمول کی آپریشنل لاگت، مرمت، سالانہ مینٹیننس اور سروس چارجز شامل نہیں ہوں گے، جبکہ ڈسکاوٴنٹ، ریبیٹ، ریفنڈ، گرانٹ اور سبسڈی حقیقی سرمایہ کاری سے منہا ہوں گے۔

 ٹیکس کریڈٹ اسی سال کی ریٹرن میں لیا جاسکے گا، جس سال انٹیگریشن مکمل ہوگی، جبکہ ایک ہی خرچ پر دوبارہ کریڈٹ نہیں ملے گا۔ ٹیکس ریٹرنز کی خودکار جانچ کا نظام مختلف دستیاب ڈیٹا کو باہم ملا کر ریٹرن میں غلطیوں، تضادات اور قانونی مسائل کی نشاندہی کرے گا۔