وفاقی گرانٹس اور گلگت بلتستان کا بجٹ

مالی سال 2026-27 کے لیے گلگت بلتستان کی کابینہ نے 218 ارب روپے سے زائد حجم کے بجٹ کی منظوری دی


اقبال بجاڑ October 29, 2026

گلگت بلتستان قدرتی وسائل، آبی ذخائر، سیاحت اور معدنی امکانات سے مالا مال خطہ ہے، لیکن اس کی حکومت کے مالی وسائل کا بڑا حصہ وفاقی تعاون سے وابستہ ہے۔ یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا خطے کے بجٹ کا حجم اس کے عوام کی ضروریات اور ترقیاتی تقاضوں کے مطابق ہے؟

مالی سال 2026-27 کے لیے گلگت بلتستان کی کابینہ نے 218 ارب روپے سے زائد حجم کے بجٹ کی منظوری دی۔ ایکسپریس اردو کی 15 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 88 ارب روپے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 23 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی۔ یہ اعداد خطے کی مالی ضروریات، اخراجات کی ترجیحات اور ترقیاتی منصوبہ بندی پر بحث کی اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے بجٹ دستاویزات میں گلگت بلتستان حکومت کے لیے 88 ارب روپے کی گرانٹ اِن ایڈ اور گندم کی سبسڈی کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت نے اپنی ترقیاتی ضروریات کے لیے مزید وسائل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ خطے کی مالی منصوبہ بندی میں وفاقی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم اصل سوال صرف یہ نہیں کہ وفاق سے کتنی رقم ملتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ دستیاب وسائل عوام کی زندگیوں میں کتنی تبدیلی لاتے ہیں۔ گلگت، دیامر، غذر، استور، ہنزہ، نگر، اسکردو، شگر، کھرمنگ اور گانچھے سمیت مختلف علاقوں میں صحت، تعلیم، بجلی، سڑکوں، پینے کے پانی اور روزگار کے مسائل عوام کی توجہ کے منتظر ہیں۔ دشوار گزار جغرافیہ اور سخت موسمی حالات ان مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن بھی اہم ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن اور انتظامی اخراجات حکومتی نظام چلانے کے لیے ضروری ہیں، لیکن ترقیاتی سرمایہ کاری کے بغیر عوامی سہولتوں میں پائیدار بہتری لانا مشکل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ترقیاتی منصوبے کا انتخاب مقامی ضرورت، متوقع فائدے اور تکمیل کی صلاحیت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

وفاقی گرانٹس پر انحصار کم کرنے کی بحث بھی محض نعرے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت، معدنیات، مقامی کاروبار اور آبی وسائل سے وابستہ معاشی سرگرمیوں میں امکانات موجود ہیں۔ ان شعبوں کو ماحول کے تحفظ، مقامی آبادی کے حقوق اور شفاف پالیسیوں کے ساتھ ترقی دے کر مقامی آمدن بڑھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خطے کی جغرافیائی اور انتظامی ضروریات کے باعث وفاقی مالی تعاون مستقبل قریب میں اہم رہے گا۔

وفاق اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ایک شفاف اور قابلِ پیش گوئی طریقۂ کار کی ضرورت ہے، تاکہ ہر سال بجٹ کی تیاری کے دوران غیر یقینی صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ مالی وسائل کی بروقت فراہمی سے حکومت تعلیم، صحت، بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔

اسی طرح عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وفاق سے کتنی رقم منظور ہوئی، کتنی وصول کی گئی، کن منصوبوں پر خرچ ہوئی اور مقررہ مدت میں کتنے منصوبے مکمل ہوئے۔ بجٹ اور ترقیاتی اخراجات کی باقاعدہ عوامی رپورٹنگ سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

گلگت بلتستان کے عوام کو صرف بجٹ کے بڑے اعداد نہیں چاہییں؛ انہیں بہتر ہسپتال، معیاری تعلیم، قابلِ اعتماد بجلی، محفوظ سڑکیں اور باعزت روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ وفاقی حکومت کو خطے کی مخصوص ضروریات کے مطابق مالی تعاون جاری رکھنے کے ساتھ مقامی حکومت کو بھی وسائل کے بہتر استعمال اور اپنی آمدن بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

آخرکار کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا معیار اس کی مالیت نہیں، بلکہ وہ تبدیلی ہے جو عام شہری کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ گلگت بلتستان کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ وفاقی گرانٹس اور دستیاب وسائل عوامی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
اقبال بجاڑ
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔