ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے (حصہ دوئم)

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے


[email protected]

مظہر عباس نے مشرف دور کا ذکر کرتے ہوئے ایمرجنسی پلس کے نفاذ کے بعد صحافت اور صحافیوں کی مشکلات کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ میڈیا کے حوالے سے دو آرڈینسز اور پی ایف یو جے کے احتجاج کے حوالے سے انھوں نے لکھا ہے کہ ایسے پیغامات بھی آئے کہ براہِ کرام احتجاجی جلسے یا جلوسوں سے گریز کریں، بالکل زیرو ٹالیرنس پالیسی ہے۔

اس کے باوجود 9نومبر 2007کو اسلام آباد کے میلوڈی چوک پر ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے۔ پی ایف یو جے کی قیادت کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ کراچی پریس کلب کے سامنے صحافیوں کی ریلی پر لاٹھی چارج کیا اور 200 سے زیادہ صحافیوں نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں گرفتاریاں پیش کیں۔  مظہرعباس لکھتے ہیں کہ جس دن محترمہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں قتل کیا گیا تو اس المناک سانحہ کے بعد امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پی ایف یو جے نے اپنی احتجاجی تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔

 کتاب کا پانچواں باب انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے پی ایف یو جے سے تعاو ن سے متعلق ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آئی ایف یو جے کے وفد نے فروری2007میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس وقت پاکستان ان ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا جہاں صحافیوں پر حملے ہورہے تھے۔ 19 سے 22 نومبر تک آئی ایف یو جے کے وفد کے پاکستان کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر اسلام آباد میں ایک گول میز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں صحافی انجمنوں، سول سوسائٹی، ایڈیٹروں اور دیگر تنظیموں کے نمایندوں کے علاوہ سفارتی نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کے اعلامیہ کو’’اعلامیہ اسلام آباد‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس اعلامیہ میں 3نومبر 2007ء کو نافذ کیے گئے عارضی آئینی حکم (P.C.O) کی مذمت کی گئی۔

اس موقع پر پی ایف یو جے نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ آزادئ صحافت کی ضمانت دینے والے حقوق کے چارٹر کے لیے نہ صرف پرعزم رہیں بلکہ اس عزم کا کھل کر اظہار بھی کریں۔ کتاب کے چھٹے باب میں مظہر عباس لکھتے ہیں کہ MQM وہ واحد لسانی جماعت تھی جو عوامی سطح پر انتہائی اثر و رسوخ رکھتی تھی لیکن اس کا صحافیوں اور میڈیا اداروں پر تشدد اور دباؤ اس کی سیاسی غلطیوں میں شمار ہوا۔ 17مارچ 1991 کو گلشن اقبال میں مظہر عباس کے گھر چند مسلح افراد اخل ہوئے اور بڑے بھائی اور دو چھوٹے بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ انھیں محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ۔ لیکن ان کے والد پروفیسر عابد عباس نے کہا ’’اس طرح ہم اپنے حملہ آوروں کو غلط پیغام دیں گے کہ ہم خوفزدہ ہوگئے۔‘‘

 تمام اخباری تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 5جولائی 1991 کو ہڑتال کا اعلان کیا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس تک علامتی مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کمیٹی کے کنوینر مظہر عباس تھے ۔اس علامتی مارچ میں سینئر ایڈیٹر سمیت صحافی شریک ہوئے، نتیجتاً کراچی کے جن اخبارات پر پابندی عائد تھی ، وزیراعلیٰ فوراً پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 1994میں مظہر کو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ویج ایوارڈ اور صحافیوں کے حالاتِ کار سے متعلق کابینہ کے اجلاس کی بریفنگ کے لیے طلب کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پی ایف یو جے کے کسی نمایندہ کو وفاقی کابینہ میں بریفنگ کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس بریفنگ کے خاتمہ پر ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں ۔ مظہر عباس نے کتاب کے ساتویں باب میں آزادئ صحافت کے عالمی ایوارڈ ملنے کا ذکر کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ 2007 میں انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ کے لیے انھیں منتخب کیا گیا۔ 20 نومبر 2007کو نیویارک میں اس ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس ایوارڈ کو پی ایف یو جے کے بانی رہنماؤں اور صحافی برادری کے لیے مسلسل جدوجہد کے نام کرنے کا اعلان کیا گیا۔

کتاب کے نویں باب میں ان صحافیوں کے تفصیلی حالات بیان کیے گئے ہیں جو اپنے فرائض کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ مصنف قابلِ مبارکباد ہیں کہ انھوں نے ان شہید صحافیوں کے حالات بیان کیے جن کے بارے میں بہت کم لکھا گیا۔ کتاب کا دسواں باب ملک میں ڈیجیٹل میڈیا کے آغاز کے تناظر میں ہے۔ مظہرعباس لکھتے ہیں کہ غیر سنجیدہ اور حقائق کے برخلاف تحریر (Hooliannism) کو صحافت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صحافت ایک سنجیدہ پیشہ ہے جسے غیر پیشہ ور لوگوںکے سپرد نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا کے نام پر ہم اپنے گرد صحافت کے نام پر اکثر ایسے مناظر دیکھتے ہیں۔ میڈیا اب طباعت سے الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں داخل ہوچکا ہے۔عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے عروج اور اس کے اثرات کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے اس وقت لیا گیا جب Arab Spring کے دوران اس کی طاقت براہِ راست محسوس کی گئی۔

 مظہرعباس نے کتاب کے گیارہویں باب میں قیام پاکستان سے 2024 تک میڈیا کو کنٹرول کرنے والے قوانین اور ان کے خلاف پی ایف یو جے اور اس کی ذیلی تنظیموں کی مزاحمت کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے اور تمام قوانین کی فہرست دی ہے۔ مصنف نے بارہویں باب میں گزشتہ چند برسوں میں نافذ ہونے والے قوانین کا ذکر کیا ہے۔ کتاب کا تیرہواں باب کا عنوان’’ پس منظر اور پیش منظر‘‘ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ غیر پیشہ ور افرادکے میڈیا میں بڑے پیمانہ پر داخل ہونے نے ایک طبقاتی اسٹیٹس کی علامت بنادیا ہے۔

صحافت کی سب سے بڑی کشش اس کی ہمہ گیر رسائی ہے۔ صحافیوں کی بھرتی یا کئی واضح معیار نہیں رہا۔ بنیادی صحافتی اصولوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ کتاب کا چودہواں باب الیکٹرونک میڈیا کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پندرہواں باب میںدیہی اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو درپیش خطرات کو بیان کیا گیا ہے۔کتاب کا سولہواں باب مشکل حالات میں کام جاری رکھنے کے عزم کے عنوان سے ہے۔ مصنف نے اس میں لکھا ہے کہ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستان مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جہاں میڈیا کو حکومت پر تنقید کرنے کی قدرے آزادی ہے۔ مظہر عباس نے آخری باب میں اظہار کی آزادی کا خواب کے حوالے سے لکھا ہے کہ آزادی وہی محبوب منزل ہے جس کی بدولت میڈیا اپنی ذمے داری موثر انداز میں انجام دے سکتا ہے۔ ایک ایک ذمے دار پریس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود احتسابی کی اجازت نہ ہو۔

 مظہر عباس 42برس سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کے صرف چند صحافیوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے بارے میں لکھا ہے۔ مظہر عباس مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے میڈیا کی 80سالہ تاریخ کو ایک کتاب میں منتقل کیا ہے۔ اس جائزے میں بہت مختصر مواد شامل ہوگا ، جو لوگ پاکستان میں میڈیا کی تاریخ جاننے کے خواہاں ہیں، یہ ان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے۔

مظہر کا یہ عزم ہے کہ :

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے