بھارتی حکومت جارحانہ رویے سے گریز کرے

معمولی سے بات کو بہانہ بنا کر مودی کا پاکستان سے بات چیت کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنا قطعی طور پر درست رویہ نہیں ۔۔۔


Editorial August 31, 2014
معمولی سے بات کو بہانہ بنا کر مودی کا پاکستان سے بات چیت کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنا قطعی طور پر درست رویہ نہیں. فوٹو: فائل

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑی عالمی طاقتوں کی طرف سے اس دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال اور جامع مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیں جسے انھوں نے باقاعدہ اقرار کے بعد ایک حالیہ معمولی سے سفارتی واقعہ کا عذر تراشتے ہوئے پھر ملتوی کر دیا ہے۔

جمعہ کو نئی دہلی میں جاپانی میڈیا ٹیم سے بات چیت کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر کی علیحدگی پسند کشمیری لیڈروں کے ساتھ ملاقات پر انھیں بہت مایوسی ہوئی۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں لیکن یہ بات چیت باہمی طور پر ہی ہونی چاہیے جیسا کہ شملہ معاہدہ میں طے کیا گیا تھا۔کشمیری رہنماؤں کی پاکستانی سفیر اور حکام سے ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں،کشمیری مسئلہ کشمیر کے اہم فریق ہیں لہٰذا وہ اکثر و بیشتر یہ ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔

معمولی سے بات کو بہانہ بنا کر مودی کا پاکستان سے بات چیت کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنا قطعی طور پر درست رویہ نہیں،اس سے یہ امر عیاں ہوتا ہے کہ مودی کسی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ نریندر مودی نے وہی موقف دہرایا کہ پاکستان نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات کر کے بھارت کے اعتماد کو مجروح کیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ان سب باتوں کے باوجود ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ اور باہمی تعاون پر مبنی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔مودی جتنا مرضی لیت ولعل کے حربے استعمال کرلیں انھیں بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔مذاکرتی عمل کے شروع ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی خطے کی صورتحال میں بہتری کے آثار دھندلے رہیں گے۔

نریندر مودی آئندہ ماہ واشنگٹن میں صدر اوباما کے ساتھ ملاقات کریں گے اور نیویارک میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے بھی ان کی ملاقات کا امکان ہے۔پاکستانی حکومت بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا کئی بار اظہار کر چکی ہے مگر اس راہ میں موجودہ بھارتی حکومت کا رویہ ہی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔دریں اثنا بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات فورسز کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ گولہ باری کے دوران گولی کا جواب گولی سے دیا جائے۔ بھارتی حکومت اپنے جارحانہ رویے پر غور کرے،اس کا یہ رویہ ہی دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔