مارنس لبوشین کی مسلسل ناکامیوں کا نیا ریکارڈ، ٹیم میں جگہ خطرے میں پڑگئی

سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ اب شاید کسی کھلاڑی کو اتنا طویل موقع نہیں دیا جائے گا


اسپورٹس ڈیسک October 29, 2026

آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز مارنس لبوشین جنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میں ایک بار پھر ناکام ہوگئے جس کے بعد ٹیم میں ان کی جگہ برقرار رہنے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اسٹیو اسمتھ گردن کی انجری کے باعث میچ سے باہر تھے تاہم لبوشین اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور صرف پانچ گیندوں کا سامنا کرکے بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔

اس ناکامی کے ساتھ لبوشین مسلسل 48 ٹیسٹ اننگز میں سنچری بنانے میں ناکام رہنے والے آسٹریلیا کے پہلے ٹاپ فور کے بلے باز بن گئے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ اب شاید کسی کھلاڑی کو اتنا طویل موقع نہیں دیا جائے گا۔

لبوشین نے آخری ٹیسٹ سنچری 2023 میں اولڈ ٹریفورڈ کے مقام پر بنائی تھی جبکہ اس کے بعد ان کی اوسط صرف 24.77 رہی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی دکھا کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔

میٹ رینشا نے 74، کیمرون گرین نے 65 رنز بنائے جبکہ جوش انگلس 85 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلس اور ایلکس کیری نے چھٹی وکٹ کے لیے 145 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی۔

جنوبی افریقا کی پہلی اننگز 329 رنز پر ختم ہوئی تھی جبکہ آسٹریلیا نے جواب میں 330 رنز پر چار وکٹیں گنوا کر ایک رن کی برتری حاصل کرلی۔

سابق کپتان رکی پونٹنگ سمیت کئی ماہرین لبوشین کی تکنیک اور خراب فارم پر تنقید کرچکے ہیں۔

دوسری جانب رینشا، گرین اور انگلس کی کارکردگی نے آسٹریلوی سلیکٹرز کے سامنے نئے انتخاب کے امکانات بھی روشن کردیے ہیں۔