امریکا: چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر دوا کم کی، 31 سالہ خاتون زندگی کی بازی ہار گئی

والدین نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار کمپنی کے مبینہ غیرمحفوظ طبی مشوروں کو ٹھہرایا ہے۔


ویب ڈیسک October 29, 2026

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ کے مبینہ طبی مشوروں پر عمل کرنے والی 31 سالہ خاتون کی موت کے بعد والدین نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیٹل کی رہائشی بووین وان مرگی کے مرض میں مبتلا تھیں اور کئی برسوں سے ادویات استعمال کر رہی تھیں۔

خاتون کو خدشہ تھا کہ دواؤں کے مضر اثرات ان کی یادداشت اور بولنے کی صلاحیت متاثر کر رہے ہیں جس کے باعث انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ لیا۔

Bowen Wan poses with her parents, Meiqin Xu and Qun Wan, in front of a traditional building.

والدین کے دائر کردہ مقدمے کے مطابق چیٹ بوٹ نے مبینہ طور پر خاتون کو ڈاکٹر کی نگرانی کے بغیر دوا کی خوراک بتدریج کم کرنے کا منصوبہ دیا۔

Portrait of Bowen Wan smiling.

بعدازاں خاتون فروری میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں جبکہ طبی حکام نے موت کی وجہ مرگی کی اچانک پیچیدگی قرار دی۔

Bowen Wan smiling in front of the Stanford Memorial Church.

والدین نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار کمپنی کے مبینہ غیرمحفوظ طبی مشوروں کو ٹھہرایا ہے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ چیٹ جی پی ٹی طبی علاج کا متبادل نہیں ہے۔