مائیکروسافٹ کا طبی اے آئی ماڈل، پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں نمایاں کارکردگی کا دعویٰ

کمپنی کے مطابق اس نظام کا مقصد ڈاکٹروں کو مشکل طبی کیسز کا تجزیہ اور درست تشخیص تک پہنچنے میں مدد کرنا ہے


ویب ڈیسک October 30, 2026

مصنوعی ذہانت کے طبی استعمال سے متعلق ایک نئی تحقیق میں مائیکروسافٹ کے تیار کردہ ماڈل ’ایم اے آئی-ڈی ایکس او‘ نے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نظام کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ مشکل طبی کیسز کا تجزیہ کرنے، ممکنہ بیماریوں کا موازنہ کرنے اور درست تشخیص تک پہنچنے میں معالجین کی مدد کرنا ہے۔

مائیکروسافٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اے آئی نظام کو ایسے طبی کیسز پر آزمایا گیا جن میں بیماری کی شناخت کے لیے مریض کی علامات، طبی تاریخ اور مختلف ٹیسٹوں کے نتائج کو یکجا کرکے دیکھنا ضروری تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بعض تجربات میں ماڈل نے انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں زیادہ درست تشخیص کی اور نسبتاً کم ٹیسٹوں اور اخراجات کے ساتھ نتیجے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔

تحقیق میں امریکی ایمرجنسی شعبوں سے متعلق پیچیدہ کیسز بھی شامل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مخصوص تشخیصی تجربے میں اے آئی نظام کی درستگی ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1.7 گنا زیادہ رہی۔ ایک اور تقابل میں اے آئی ماڈل نے 83.2 فیصد درست تشخیص کی، جبکہ انسانی ڈاکٹروں کی کامیابی کی شرح 36.1 فیصد رہی۔ ایمرجنسی کیسز کے ایک الگ تجربے میں ماڈل کی کارکردگی 80.3 فیصد جبکہ ڈاکٹروں کی درستگی 46.8 فیصد رپورٹ کی گئی۔

تحقیق میں صرف تشخیص کی درستگی ہی نہیں، بلکہ طبی ٹیسٹوں کی تعداد اور اخراجات کو بھی اہمیت دی گئی۔ مائیکروسافٹ کے مطابق بعض کیسز میں اے آئی نظام نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً نصف یا ایک تہائی لاگت کے ساتھ درست تشخیص تک پہنچنے میں مدد دی۔ تاہم یہ نتائج تحقیق میں استعمال کیے گئے مخصوص کیسز اور آزمائشی حالات سے متعلق ہیں، انہیں تمام مریضوں اور طبی حالات پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

ماہرین کے مطابق ایسے نظام مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریض کی علامات اور طبی تاریخ کا منظم جائزہ لینے، ممکنہ بیماریوں میں فرق کرنے اور غیر ضروری ٹیسٹوں سے بچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم حقیقی طبی ماحول میں ان کی افادیت، حفاظت اور مستقل کارکردگی جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور توثیق ضروری ہے۔

یہ پیش رفت طبی شعبے میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے، لیکن فی الحال اسے انسانی معالج کی جگہ لینے والی ٹیکنالوجی سمجھنے کے بجائے تشخیص میں معاونت فراہم کرنے والے نظام کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔