طلبہ اور جسمانی سرگرمیاں

پاکستان میں نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتوں تک رسائی کا مسئلہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے



جامعہ کراچی کے ایک شعبے میں جب صبح داخل ہوا تو ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا۔ شعبے کے بڑے سے گول ٹیرس پر طلبہ قطار کی شکل میں واک کر رہے تھے، جب کہ دوسری طرف ان کی ٹیچر انھیں ہدایات دے رہی تھیں کہ اپنا چکر مکمل کریں اور پھر کلاس میں داخل ہوں۔یہ منظر میرے لیے خاصا حیران کن تھا۔ میں نے ٹیچر سے اس کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ’’ دراصل کلاس میں طلبہ بہت سست انداز میں بیٹھے ہوئے تھے اور لیکچر پر ان کی توجہ بالکل نہیں تھی‘‘ چنانچہ انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ صبح صبح انھیں تھوڑی سی واک کروا دی جائے تاکہ وہ متحرک ہو سکیں اور بہتر انداز میں لیکچر پر توجہ دے سکیں۔

مجھے ان کا یہ خیال بہت پسند آیا، کیونکہ میری اپنی کلاسوں میں بھی عموماً صبح کے وقت کچھ طلبہ سست دکھائی دیتے ہیں۔ پوری کلاس میں کم ہی طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو پوری طرح متحرک اور لیکچر میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا اس کے پیچھے ہمارے بدلتے ہوئے طرز زندگی کے کچھ دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں؟

ہماری نئی نسل کے معمولات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ رات گئے تک موبائل فون پر سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جب کہ ناکافی نیند اگلے دن تھکن، سستی اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مسئلہ صرف رات کو دیر تک جاگنے کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ہماری نئی نسل جسمانی سرگرمیوں سے کتنی دور ہوتی جا رہی ہے۔ گھر سے دھنیا، پودینا بھی لینے جائیں تو موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے ہی خریدتے ہیں۔

 پہلے بچوں کو گلی محلوں میں کھیلتے، دوڑتے، سائیکل چلاتے اور دوستوں کے ساتھ مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے دیکھا جاتا تھا۔ اب بہت سے بچوں کی تفریح کا بڑا حصہ موبائل فون، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ کھیلنے کے میدان کم ہوں، محفوظ جگہیں دستیاب نہ ہوں اور فارغ وقت کا بیشتر حصہ اسکرین کے سامنے گزرے تو جسمانی سرگرمیوں میں کمی فطری بات ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی طالب علم جسمانی طور پر غیر فعال بھی ہے۔ انٹرنیٹ تعلیم، تحقیق اور معلومات کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب اس کا استعمال نیند، ورزش، کھیل اور دوسری ضروری سرگرمیوں کے لیے دستیاب وقت کو کم کرنے لگے۔

پاکستان میں نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتوں تک رسائی کا مسئلہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق 94 فیصد پاکستانی نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتیں میسر نہیں تھیں، 78 فیصد کو پارک دستیاب نہیں تھا، جب کہ 71 فیصد کو کسی بھی قسم کی متعلقہ سہولت حاصل نہیں تھی۔

 اسی طرح تعلیمی اداروں کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ پاکستان میں نجی اسکولوں کی ایک بڑی تعداد محدود جگہوں پر قائم ہے، بعض اسکول 120 گز کے رہائشی پلاٹوں پر چل رہے ہیں۔ ایسے اداروں سے بڑے کھیل کے میدانوں کی توقع کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہاں جسمانی سرگرمیوں کے تمام امکانات ختم ہو جاتے ہیں،اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو محدود جگہوں میں بھی ورزش، اسٹریچنگ، ہلکی پھلکی جسمانی مشقوں، انڈور کھیلوں اور مختصر اجتماعی سرگرمیوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ممکن ہو، قریبی پارک یا کمیونٹی گراؤنڈ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جسمانی سرگرمیوں کو تعلیمی معمول کا ایک لازمی اور بامقصد حصہ سمجھا جائے، نہ کہ ایسا اضافی مشغلہ جسے وقت کی کمی کے باعث سب سے پہلے ختم کر دیا جائے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں اس حوالے سے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں جسمانی تعلیم اور کھیلوں کو تعلیمی زندگی کا حصہ بنایا جاتا ہے، جب کہ چین میں بھی اسکولوں کے معمولات میں جسمانی سرگرمیوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان ممالک میں مخصوص اوقات میں، مثلاً جاپان میں سالانہ 90 گھنٹے یا چین میں روزانہ دو گھنٹے جسمانی سرگرمیاں لازمی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت پانچ سے سترہ سال کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے روزانہ اوسطاً کم از کم 60 منٹ اچھی طرح سے جسمانی سرگرمی کی سفارش کرتا ہے۔ اس میں دوڑنا، کھیلنا، سائیکل چلانا، تیز چہل قدمی اور دوسری مناسب جسمانی سرگرمیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس سفارش کا مقصد بچوں کو کھلاڑی بنانا نہیں، بلکہ انھیں صحت مند زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔