اسلام آباد:
سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر ناصر بٹ نے اپنی ہی حکومت کے وفاقی وزیر ریلوے کی وزارت کی کارکردگی پر تنقید کر ڈالی۔
سینیٹر ناصر بٹ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی آئے روز پٹڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہیں اور آئے روز ریلویز کے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان ریلوے کی اراضی پر قبضوں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئی جس کے مطابق پاکستان ریلوے نے چاروں صوبوں میں 2 ہزار 826 ایکڑ اراضی واگزار کروا لی جبکہ قبضے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف 174 ایف آئی آر درج ہوئیں۔
وزیر ریلوے کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ایک ہزار 235 ایکڑ، سندھ میں 945 ایکڑ، خیبرپختونخوا میں 424 ایکڑ اور بلوچستان میں 220 ایکڑ اراضی کو واگزار کروایا گیا۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ ریلوے حکام، انسپکٹرز اور ریلوے پولیس کو تجاوزات کی نشاندہی اور خاتمے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ریلوے اراضی واگزار کرانے کی مہم مسلسل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے کی ایک انچ کی زمین پر بھی قبضہ نہیں رہنے دیں گے۔ آج تک وزیراعظم، کسی سیاسی دوست سے کوئی سفارش نہیں آئی ہے۔