راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے

سینئر خاتون افسر کو غیر مجاز میڈیکل پریسکرپشن پر خریدی گئی ادویات کی مد میں ہزاروں روپے ادا


جمیل مرزا October 31, 2026

راولپنڈی:

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے، قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سینئر خاتون افسر کو 2022 کی غیر مجاز  میڈیکل پریسکرپشن پر 2026 میں خریدی گئی ادویات کی مد میں 31 ہزار 980 روپے ادا کردیے گئے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ادائیگی کے لیے منظور ہونے والے بل کو فنانس ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ انٹرنل آڈٹ نے بھی کلیئر کیا۔ دوسری جانب عام ملازمین کو میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے کلیمز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آر ڈی اے کی ایک سینئر افسر نے اپنے والد کے استعمال کے لیے 31 ہزار 980 روپے کی ادویات خریدیں اور ان کی ادائیگی اتھارٹی سے وصول کرلی۔

ادویات کی خریداری کے لیے پیش کی گئی میڈیکل پریسکرپشن سال 2022 کی تھی، جب متعلقہ افسر آر ڈی اے میں اس وقت  تعینات بھی نہیں تھیں۔

مزید یہ کہ پریسکرپشن جاری کرنے والا نجی اسپتال آر ڈی اے کے منظور شدہ اسپتالوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا، جبکہ اس میں درج ملٹی وٹامن ادویات کو بیماری کے علاج کی بجائے طاقت کے سپلیمنٹ قرار دیا جاتا ہے۔

بل کی منظوری ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اور ڈائریکٹر فنانس نے دی، جبکہ انٹرنل آڈٹ نے بھی ادائیگی کو کلیئر کردیا۔ اس صورتحال نے آر ڈی اے کے مالیاتی نظام، آڈٹ اور فنانس ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

قبل ازیں آر ڈی اے میں  آفیشل اکاونٹ سے 2 ارب سے زائد مالیت کے فنڈز فرضی کمپنیوں کو سی ڈی ار کے ذریعے ٹرانسفر کرنے کا مالیاتی سیکنڈل مئی 2025 میں سامنے آچکا ہے۔

ادھر متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کے  باوجود حالیہ ری ایمبرسمنٹ بل کی ادائیگی پر آر ڈی اے کے پی آر او نے موقف دینے سے انکار کردیا۔