جرمنی اور فرانس میں ہالووین کے موقع پر مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس نے حکام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
فرانس سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر اب جرمنی تک پھیل گئی جہاں ہالووین کے دن نوجوانوں کی قیادت میں 'جین زی یہ سنبھال لے گی' نامی تحریک کے تحت ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
جرمن نوجوان بڑھتی ہوئی مہنگائی، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈز کی کمی، ماحولیاتی مسائل اور لازمی فوجی سروس کی ممکنہ واپسی کے خلاف برلن، فرینکفرٹ، کولون اور میونخ جیسے بڑے شہروں میں مظاہرے کر رہے ہیں۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے برلن کی مشہور لگژری مارکیٹوں کی دکانوں کے شیشوں کو لکڑی کے بورڈ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف، فرانس میں "یلو ویسٹس" تحریک کے تحت احتجاج کا تیسرا مرحلہ جاری ہے۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے پبلک آرڈر کی خرابی کے شدید خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں 70,000 اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔
ہالووین کی رات کو سوشل میڈیا پر "Purge" (سب جرائم کی کھلی چھوٹ) جیسے پیغامات کی گردش نے فرانسیسی حکام کی تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ہالووین کے لباس میں بھی چہرہ چھپانے پر 150 یورو کا جرمانہ ہوگا اور نقلی ہتھیار رکھنے پر بھی تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
فرانس میں یہ احتجاج ستمبر میں طلبہ کی جانب سے اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف شروع ہوا تھا، جو اب ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔