بحری قزاقوں کا جہاز پر حملہ

سمندری جہاز ایک تیرتے ہوئے شہر کی مانند ہوتا ہے


قمر عباس نقوی November 01, 2026

سمندر انسان کے لیے ہمیشہ سے حیرت، کشش، وسعت اور اسرار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ نیلے پانیوں کی لہریں ، افق تک پھیلا ہوا سمندر ، طلوع آفتاب کا دلکش منظر اور رات کے وقت آسمان پر چمکتے ستارے سمندری زندگی کو ایک منفرد رنگ دیتے ہیں لیکن سمندر کی زندگی صرف خوبصورت مناظر اور آزاد فضا کا نام نہیں بلکہ اس کے اندر محنت ، نظم و ضبط ، ذمے داری، تنہائی ، قربانی اور حوصلے کی ایک طویل داستان بھی پوشیدہ ہے۔

سمندری جہاز ایک تیرتے ہوئے شہر کی مانند ہوتا ہے جس میں کام کرنے والے کارکنان میں ملاح، مرچنٹ نیوی کے افسران ، انجینئرز، ڈیک کیڈٹس ، باورچی، اسٹیورڈز اور دوسرے عملے کے ارکان شامل ہوتے ہیں۔

یہ لوگ اپنی خدمات کے ذریعے دنیا کی تجارت، نقل و حمل اور معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی زندگی خشکی پر رہنے والے لوگوں سے کئی اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ سمندری زندگی کا ایک اہم اور مشکل پہلویہ ہے کہ وہ معاشرتی اور سماجی زندگی اور اپنے خاندانی میل جو ل سے کچھ عرصہ کے لیے نظر وں سے اوجھل رہتے ہیں۔

دنیا کی معیشت میں سمندر ی نقل و حمل کی بہت اہمیت ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان اشیائے ضروریہ ان ہی جہازوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہیں۔اس اعتبار سے سمندری ملازمین نہ صرف اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ دنیا کے معاشی نظام کو چلانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیںاور یوں یہ افراد دنیا کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

موجوں کے سنگ بہتی ہے زندگی کی کہانی

سمندر کی ہر بوند میں ہے قدرت کی نشانی

صومالیہ کا تیل بردار بحری جہاز MT Honour 25 مسقط کی بندرگاہ سے صومالیہ کی بندرگاہ کے لیے روانہ ہوا جس میں عملہ کے تقریبا سترہ افراد سوار تھے جن میں 10 افراد کا تعلق پاکستان، 4 افراد کا تعلق انڈونیشیااور ایک ایک کا تعلق میانمار، انڈیا اور سری لنکا سے تھا۔

مورخہ 21 اپریل 2026 اس بدقسمت جہاز کے عملہ کے لیے قیامت صغر یٰ سے کم نہ تھا جب صومالیہ کی نیم خود مختار ریاست پنٹ لینڈ سے لگ بھگ تیس بحری میل کے فاصلے پر بحری قزاقوں نے اسلحہ کے زور پر جہا ز کو اغوا کر لیا۔ ان کا مطالبہ تاوان کی وصولی تھا۔ اس خطے میں یہ کوئی اغوا برائے تاوان کا نیا سانحہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے بے شمار واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

جس کی وجہ اس خطے میں غربت و افلاس، لاقانونیت ، سیاسی عدم استحکام بتائی جاتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری جہازوں کواغوا کرنے اور ان کے عملے کو طویل عرصے تک یرغمال بنائے رکھنا ایک ایسا المناک سانحہ ہے جس نے دنیا بھر کے ملاحوں، ان کے خاندانوں اور عالمی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سترہ افراد کی بحالی کا معاملہ تجارت کی دنیا کے طاقتور اہل ثروتوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ جب سوشل میڈیا سے جہاز کے اغوا کی اہل خانہ کو خبر ملی تو جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی ۔

پرنٹ اور سوشل میڈیا پر سوشل پوسٹیں گردش کرنے لگیں اور اپیلوں اور احتجاجو ں کے سلسلہ کا آغاز ہو گیا اور بے کس و بے سروسامانی کا شکار اہل خانہ و متعلقین کی جانب سے حکومت کو اس معاملے کے جلد حل کے لیے زور دیا گیا۔

اب یہاں بنیادی مسئلہ جہاز سے زیادہ ان عملے کے ارکان کی جانوں کا تھا جن کے پیچھے ان کے خاندان کے افراد اور لواحقین اپنے پیاروں کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ مواصلاتی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کو یرغمالیوں کی خیریت سے بروقت آگاہی نہ ہوسکی تھی تو وہاں گھروں میں ایک بے چینی ، پریشانی و اضطراب کی کیفیت سے دو چار کر دیا اور انھوں نے ان کی جلد اور بحفاظت رہائی کے لیے متعلقہ حکام سے اپیلیں شروع کر دی تھیں۔

حتیٰ کہ پاکستان میں احتجاج کا سلسلہ روز بروز زور پکڑتا گیا۔ ڈر تھا کہ ان کی بحالی میں جتنی تاخیر ہوگی معاملہ اتنا ہی مشکل ہو تا چلا جائے گا۔ اس بے چینی و اضطراب میں مبتلا ستمبر کی بارہ تاریخ کو سات پاکستانی یرغمالیوں کے افراد خاندان اور متعلقین نے پاکستان کے دفتر خارجہ ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی میری ٹائم ایجنسی سے یرغمالیوں کی جلد اور بحفاظت رہائی کے لیے پرزور اپیل کی۔

کراچی کے مختلف اہم مقامات پر متاثرین خاندان اور متعلقین نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اگست کی 24 تاریخ کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے عالمی میری ٹائم ایجنسی کے چیف سے رابطہ کرکے انہیں اس انسانی مسئلے کے جلد حل کے لیے زور دیا، جس پر ایجنسی نے بتایا کہ جہاز پر سوار عملے کو خوراک ، پینے کے لیے صاف پانی اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے جو انسانی صحت کے لیے مضر ہو سکتے ہیں ۔

موصوف وزیر نے مختلف اوقات میں صومالیہ کے وزیر خارجہ اور اسلام آباد میں صومالی سفیر سے جہاز کے یرغمالیوں کی محفوظ اور بلا تاخیر رہائی کے لیے مسلسل رابطہ رکھا۔ دونوں حکومتوں کے درمیان اعلی سطح سفارتی رابطے دن بدن مستحکم ہوتے چلے گئے اور یو ں مورخہ 29 ستمبر 2026کو صومالیہ کے علاقہ پنٹ لینڈ کی بحری فور سز جہا ز کو گھیرے میں لے کر جہاز پر حملہ آور ہوئے اور جہاز عملہ سمیت بازیاب کرا لیا گیا۔

مگر افسوس کہ اس کارروائی کے دوران عملہ کے پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں ایک بھارتی اور دوسرا میانمار اور تین پاکستانی شہری سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری، آئیلر رفیع اللہ خاںکے علاوہ چار افراد زخمی حالت میں پاکستان پہنچے جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

یہاں یہ بات باور کرا تاچلوں کہ حکومت پاکستان اب تک صرف تین شہدا کے لواحقین کو امدادی چیک د ے سکی ہے جبکہ زخمیوں اور زندہ بچ جانے والے بحری محنت کشوں کو کسی بھی قسم کا مالی اور طبی ریلیف پیکیج فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے۔

جہاز پر سوار ایک یرغمالی سیکنڈ انجینئر حسین یوسف ابن سید شبیہ الحسن تقوی المعروف ہاشم رضا کا تعلق بھی سادات امروہہ کے معزز گھرانے سے ہے۔ اسی اثنا میں موصوف سے راقم الحروف کی مختصر سی ملاقات ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ، جس میں انھوں نے جہازپر رونما ہونے کے واقعات کا تذکر ہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ پچیس برس سے سمندری دنیا کی شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور بچے ابھی پرائمری سطح کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انڈونیشیا کی حکومت نے براہ راست مسلسل بحری قزاقوں سے رابطہ رکھنے کے علاوہ سفارتی سطح پر زبردست دباو ڈالا، وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے مگر انہیں اپنے ساتھیوں کی شہادت کا بے حد ملال ہے۔

مسلسل پانچ ماہ کی ذہنی و جسمانی اذیت سہنے کے بعد بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ،یقینا یہ ان کے اہل خانہ اور ان کے متعلقین کی نیک تمنائیں اور دلی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ پانچ ماہ کے اس عرصے میں کوئی ایسا دن نہیںگزرا ہوگا جہاں موصوف انجینئر کی بازیابی کے لیے دعاؤں کا ورد نہ کیا گیا ہو اور پوری برادری سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد رہی ہو۔

کراچی کی اسکیم 33 میں واقع سادات امروہہ سوسائٹی کے رہائشیوں نے بھی احتجاجی کال دی تھی اور برادری کے ہر فرد نے اپنے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے کام کیا۔حسین یوسف اور ان کے ساتھ زندہ بچ جانے والے بقیہ عملہ کے پاکستانی ارکان بحفاظت غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے جب کراچی کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر پہنچے تو استقبالیوں میں ایک عجب خوشی کی لہر تھی جو قابل دید تھی۔

گورنر سندھ اور میئر کراچی اور دیگر معروف سماجی و سیاسی شخصیات کے علاوہ انجمن سادات امروہہ کراچی کے صدر ساجد رضا تقوی اور دیگر عزیز و اقارب و متعلقین ان کے استقبال کے لیے موقع پر موجود تھے۔

یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ صومالیہ براعظم افریقہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک ملک ہے جو خطہ قرن افریقہ کہلاتا ہے۔ اس کے شمال میں خلیج عدن جس کے پار یمن واقع ہے۔

مشرق میں بحیرہ عرب اور بحر ہند، مغرب میں ایتھوپیا، شمال مغرب میں جبوتی اور جنوب مغرب میں کینیا واقع ہیں۔ صومالیہ کی جغرافیائی حیثیت بحری جہازوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کا ساحل خلیج عدن اور بحر ہند کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔

صومالیہ کا ساحل طویل ہے جس کے قریب سے بین الاقوامی تجارتی جہا ز گزرتے ہیں۔ ساحل کے بعض دور دراز علا قوں میں نگرانی اور قانون نافذ کرنے کی مشکلات کی وجہ سے تاریخی طور پر بحری قزاقی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

اس لحاظ سے صومالیہ کے بحری گرد و نواح جہازوں کی آمد و رفت کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہے۔ عالمی تجارت اور معیشت کے استحکام کے لیے حکومت صومالیہ کی ذمے داری ہے کہ یہاں کی سیکیورٹی کومضبوط و فعال بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔