مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی گھروں اور دیگر املاک کے خلاف اسرائیلی حکام کی کارروائیوں سے متعلق ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
فلسطینی وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مطابق 2015 سے ستمبر 2026 تک فلسطینی ڈھانچوں کے خلاف 9,518 مسماری کا اور تعمیری کام روکنے کے نوٹس جاری کیے گئے۔ ان میں 2015 سے 2025 کے دوران 9,174 جبکہ 2026 کے پہلے نو ماہ میں مزید 344 نوٹس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق الخلیل (ہیبرون) سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے، جہاں 2,697 نوٹس جاری کیے گئے۔ اس کے بعد بیت لحم میں 1,310، رام اللہ و البیرہ میں 1,118 اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں 929 نوٹس ریکارڈ ہوئے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ یہ صرف ان کیسز پر مبنی ہیں جنہیں کمیشن اور اس کے قانونی شراکت داروں نے دستاویزی شکل دی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے مطابق اسی عرصے کے دوران مغربی کنارے میں تقریباً 12 ہزار فلسطینی املاک منہدم کی گئیں، جس کے نتیجے میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے جبکہ تقریباً 8 لاکھ 43 ہزار افراد کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں مسماری کی وجوہات میں اسرائیلی تعمیراتی اجازت نامے کا نہ ملنا، بعض صورتوں میں سزا کے طور پر کارروائی اور فوجی آپریشنز شامل ہیں۔