ایران جنگ میں امریکی فوجی اڈوں کو نقصان، تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر کا خرچہ آسکتا ہے

24 امریکی فوجی مقامات پر 274 عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچ


ویب ڈیسک November 01, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے کے نقصان نے واشنگٹن کے لیے اربوں ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پیدا کردیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیرِ نو پر کم از کم 4 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں، جبکہ پینٹاگون کے مطابق اڈوں کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کا تخمینہ 5 سے 15 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر، ایرانی بیانات اور امریکی حکام سے حاصل معلومات کی بنیاد پر بتایا گیا کہ جنگ کے پہلے چھ ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کے 24 امریکی فوجی مقامات پر 274 عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔

نقصان میں فوجیوں کی رہائش گاہیں، ہینگرز، گودام، مواصلاتی مراکز، ایندھن کی تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

ایرانی حملوں میں ابتدا میں امریکی ابتدائی وارننگ ریڈارز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طیاروں، ہینگرز اور فوجی رہائش گاہوں پر حملے کیے گئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق اگست تک ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں میں 26 امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا۔