مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر بات چیت جاری ہے، شام

مشرق وسطیٰ کو اس وقت مشترکہ دفاعی اور بازدار قوت کے نظام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے


ویب ڈیسک November 01, 2026

شام نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر باضابطہ بات چیت شروع ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کے دوران کہا کہ دمشق کی مکہ اتحاد میں شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم شام نے ابھی معاہدے میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان رواں سال اگست میں طے پایا تھا۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

معاہدے میں دفاعی تعاون، فوجی رابطوں، انٹیلی جنس اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

اسعد الشیبانی نے کہا کہ شام خطے کی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے اور دمشق ایسے کسی بھی علاقائی فریم ورک کی حمایت کرے گا جو علاقائی استحکام اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنائے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کو اس وقت مشترکہ دفاعی اور بازدار قوت کے نظام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔