راولپنڈی حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ لواحقین نے پولیس کی ری انویسٹیگیشن کے عمل کو مسترد کردیا جب کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن سیف اللہ نے متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا۔
لواحقین نےکہا کہ راولپنڈی پولیس نے ری انویسٹیگیشن دوسرے ضلع میں منتقل کرنے کی درخواست پر دستخط کیلئے بلایا تھا، درخواست پڑھنے کے بعد ری انویسٹیگیشن کا عمل مسترد کردیا، ری انویسٹیگیشن پر تحفظات کے بارے پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کو مراسلہ بھیجا ہے، داخلہ کمیٹی کو بھیجے گئے مراسلے میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ دہرایا گیا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحقیقات دوسرے ضلع کی پولیس کو منتقل کرنے کیلئے درخواست دینے کا کہا ہے۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ سطح کمیٹی پہلے ہی نامزد ملزمان کو بے گناہ قرار دے چکی ہے، ایڈیشنل آئی جی کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، افسران سے دوبارہ تحقیقات کا فائدہ نہیں، ماتحت افسران ایڈیشنل آئی جی کی فائنڈنگز کو کیسے مسترد کرسکتے ہیں، ہمارا مطالبہ ہےحنا جاوید قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
متاثرہ خاندان نے فرانزک رپورٹس کے حصول کیلئے رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت درخواست بھی دے دی، متاثرہ خاندان نے کہا کہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے فرانزک رپورٹس کے حصول کیلئے پراسیکیوٹر جنرل کو درخواست بھیج دی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے ڈی این اے ٹیسٹ، موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر اشیا فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوائی تھیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے باوجود مدعی کو نقول فراہم نہیں کی گئیں، درخواستقانون کے تحت تمام فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کی نقول فراہم کی جائیں۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ پنجاب پولیس کی غیر جانب داری پر اعتماد نہیں، شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن ہی واحد راستہ ہے،