ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت دشمنوں کی جانب سے پیدا کیے گئے مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گی، تاہم ایران کسی کے دباؤ میں آکر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق مسعود پزشکیان نے تہران میں ملک کے گورنروں اور میئرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کے لیے بعض اختیارات دیے ہیں۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، لیکن دشمن ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی کوششیں جاری رکھے گی۔
ایرانی صدر نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ حکومت عوام کے تعاون اور ساتھ سے دشمنوں کی اس مبینہ سازش کو ناکام بنائے گی۔ ان کے مطابق عوامی یکجہتی اور تعاون ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران ایک طرف سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کی بات کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ کشیدگی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے سخت مؤقف بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔