اسلام آباد:
وزارت سمندر پاکستانی کے ماتحت ادارے اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن میں ملازمین کو حکومت کی اعلان کردہ کم سے کم تنخواہ سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی کا اجلاس آغا رفیق اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ دوران اجلاس انکشاف ہوا کہ وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل کے ماتحت ادارے اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن میں ملازموں کو حکومت کی اعلان کردہ کم سے کم تنخواہ بھی نہیں دی جارہی۔
چیئرمین کمیٹی آغا رفیق اللہ نے کہا کہ او پی ایف ملازموں کو کم سے کم تنخواہ دینے کے لیے آپ کو بورڈ کی اپروول چاہیے؟ حکومت پاکستان کا حکم آپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟
سیکریٹری او پی ایف نے کہا کہ او پی ایف سرکار سے پیسے نہیں لیتا بس کچھ رُولز کو فالو کرنا ہے۔
چیئرمین کمیٹی آغا رفیق اللہ نے کہا کہ آپ لوگ غریب آدمی کے مسائل کا حل خود کیوں نہیں نکالتے، ہر سال کیا غریب آدمی آپ کی بورڈ میٹنگ کا انتظار کرے؟ یہ ممکن نہیں کہ جو سرکار کی طرف سے کم سے کم تنخواہ ہے وہ کسی ادارے میں نہ مل رہی ہو۔
سیکرٹری او پی ایف نے کہا کہ آج بورڈ کی میٹنگ ہے اس پر چیئرمین نے کہا کہ جب آج ہماری یہ میٹنگ تھی تو آج ہی آپ کو بورڈ میٹنگ رکھنی تھی؟ حکومتِ پاکستان نے 21 اگست 2026ء کو کم سے کم تنخواہ 40 ہزار 700 روپے مقرر کی تھی اس کے بعد آج ہماری بورڈ میٹنگ ہے۔
رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کہا کہ کم سے کم تنخواہ اگست میں بڑھی، تین ماہ گزر گئے، مہنگائی روز بڑھ رہی ہے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، ابھی تک اگر آپ لوگوں نے تنخواہ نہیں بڑھائی تو یہ افسوس ناک عمل ہے۔
اجلاس میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ مہرین بھٹو نے کہا کہ کیا یہ بل لاء ڈویژن نے دیکھ لیا ہے؟ اس پر حکام نے کہا کہ جی دیکھ لیا ہے، مہرین بھٹو نے کہا کہ کیا یہ ترمیم پورے پاکستان کے لیے ہوگی؟
چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ تینوں بل مؤخر کیے جارہے ہیں تینوں بل لیجسلیٹیو کمیٹی میں بھیج رہے ہیں۔