عباسی اسپتال میں سرکاری سرنجز کی خریداری میں  مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایک ایسے افسر کو معطل کردیا گیا ہے جو خریداری کے وقت پوسٹنگ پر تھا ہی نہیں


اسٹاف رپورٹر November 03, 2026
(فوٹو: فائل)

کراچی:

بلدیہ عظمی کراچی کے عباسی شہید اسپتال میں سرکاری سرنجز کی خریداری میں  مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ایک ایسے افسر کو معطل کردیا گیا ہے جو خریداری کے وقت پوسٹنگ پر تھا ہی نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کے لیے مبینہ طور پر سرکاری سرنجز کی خریداری کے اصل ذمہ داروں کو بچا لیا گیا ہے اور حکام کی جانب سے ایک حکم نامے کے ذریعے عباسی شہید اسپتال کے اسٹور سے سرکاری سرنجز کی برآمدگی کے معاملے پر ڈی ایم ایس اسٹور ڈاکٹر طاہر قائم خانی کو معطل کردیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر طاہر قائم خانی کی ڈی ایس ایم اسٹور تعیناتی 14 کتوبر کو کی گئی تھی جبکہ عباسی شہید اسپتال کے لئے ماسٹر کی 10 ہزار سرنجز کی خریداری کا آرڈر طاہر قائم خانی کی تعیناتی سے 8روز قبل 6 اکتوبر کو ایم ایس عباسی کی جانب سے دیا گیا ہے اور 8 اکتوبر کو عباسی شہید اسپتال کے سابق ڈی ایم ایس اسٹور کامران اللہ انصاری نے کمپنی سے ایپل کی 10 ہزار سرنجز وصول کیں تھیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم ایس عباسی کی جانب سے ماسٹر سرنجز کا آرڈر دیا گیا جبکہ کمپنی نے ایپل کی سرنجز سپلائی کیں اور 8 اکتوبر کے روز ہی کمپنی کو سرنجز کی مد میں ادائیگی بھی کردی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق سرنجز کی خریداری اور کوالٹی چیک کرنے کی ذمہ داری اس وقت کے ڈی ایم ایس کامران اللہ کی تھی تاہم سابق ڈی ایم ایس نے مبینہ طور پر بغیر جانچ پڑتال کمپنی سے سرنجیں وصول کرکے ادائیگی کروادی تھی۔

دریں اثناء 14 اکتوبر کو تعینات ہونے والے ڈی ایس ایم اسٹور طاہر قائم خانی کو حیران کن طور پر اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور انہیں محکمہ ایچ آر ایم کی جانب سے معطلی کا پروانہ تھمادیا گیا ہے۔

بلدیہ عظمی کراچی کے حکام کی مذکورہ اقرباء پروری اور ذمہ دار افسران کو بچاکر بعد میں تعینات افسر کو قربانی کا بکرا بنائے جانے پرعباسی شہید اسپتال کے دیگر افسران میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔

بلدیہ عظمی کراچی کے سینئر افسران نے مذکورہ معاملہ کی شفاف چھان بین کرانے کا مطالبہ کردیا ہے اور اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔