غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کیس کے ملزم احمد تنویر کے خلاف اغوا اور تشدد سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی، احمد تنویر اور احتشام کو جسمانی ریمانڈ کےلئے جوڈیشل مجسٹریٹ افضال لله کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیر زادہ نے دلائل دیے، پولیس کی طرف سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ مانگا گیا، صفدر شاہین پیر زادہ کی طرف سے ریمانڈ کی مخالفت کی گئی،عدالت نے ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
مدعی مقدمہ نے شناخت پریڈ پر ملزم احمد تنویر اور احتشام کو شناخت کر رکھا ہے، عدالت نے آج ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔
ملزم احمد تنویر کو ڈیانا زیادتی کیس میں ضمانت ملنے کے بعد دوسرے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے شناخت پریڈ کے لیے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا تھا۔
سماعت کے بعد صفدر شاہین پیر زادہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولیس نے جس شخص کو کیس میں مدعی بنایا ہے اس کے خلاف تین مقدمات درج ہیں، ایک مقدمہ میں اس مقدمہ کا مدعی اشتہاری ہے، پولیس نے احمد تنویر کو سیشن کورٹ کی سامنے سے گرفتار کیا۔
صفدر شاہین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے گرفتاری بابا شاہ جمال کی ڈالی، پولیس اس لئے اس کا ریمانڈ لینا چاہ رہی ہے کہ اس نے گرفتاری نہیں دی، عدالت سے ہمیں پورا انصاف ملے گا۔