خلا سے نیا پراسرار سگنل موصول، کیا اس کے پیچھے خلائی مخلوق ہے؟

یہ سگنل ایک مخصوص ریڈیو فریکوئنسی پر ظاہر ہوا جس کی فریکوئنسی وقت کے ساتھ بتدریج تبدیل ہو رہی تھی۔


ویب ڈیسک November 04, 2026

خلائی مخلوق کی تلاش میں مصروف سائنسدانوں نے خلا سے آنے والے ایک پراسرار ریڈیو سگنل کا سراغ لگایا ہے، جس نے زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر زندگی کی موجودگی سے متعلق نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا ڈیلی میل کے مطابق چینی سائنسدانوں کی سربراہی میں ایک تحقیقی ٹیم نے دنیا کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو دوربین ’فاسٹ‘ کے پرانے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سگنل دریافت کیا۔

پراسرار سگنل کہاں سے ملا؟

سائنسدانوں کے مطابق یہ سگنل زمین سے تقریباً 238 لائٹ ایئر دور واقع ستاروں کے سسٹم K2-155 کی سمت سے ریکارڈ ہوا۔

اس سسٹم میں زمین سے بڑے 3 سیارے موجود ہیں جن میں سے ایک ایسے علاقے کے قریب ہے جہاں پانی کی موجودگی کے لیے موزوں حالات ہو سکتے ہیں۔

Scientists are worried about alien signals, so they have changed the plan  for decoding a possible alien message - The Economic Times

سگنل میں کیا خاص بات ہے؟

NBS 260108 نامی یہ سگنل ایک مخصوص ریڈیو فریکوئنسی پر ظاہر ہوا جس کی فریکوئنسی وقت کے ساتھ بتدریج تبدیل ہو رہی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوربین کے 19 ریسیور بیمز میں سے صرف ایک میں یہ سگنل ریکارڈ ہوا جبکہ باقی 18 میں اس کا سراغ نہیں ملا۔

کیا یہ خلائی مخلوق کا پیغام ہے؟

Alien news: Radio signal from deep space is strongest EVER recorded |  Science | News | Express.co.uk

سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ پراسرار سگنل ملنے کا مطلب خلائی مخلوق کی موجودگی ثابت ہونا نہیں ہے۔ یہ سگنل انسانی ٹیکنالوجی یا آلات کی مداخلت کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس کے اصل ماخذ کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ’ایسٹرونومیکل جرنل‘ میں شائع ہوئے ہیں۔