سندھ میں گنے کی فی من قیمت بڑھانے کا مطالبہ، کرشنگ شروع نہ کرنے پر اسلام آباد مارچ کی دھمکی

صوبائی حکومت کو 10 دن کی مہلت دے رہے ہیں، سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد کی مشترکہ پریس کانفرنس


احتشام مفتی November 04, 2026

کراچی:

سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد نے حکومت کو گنے کی کرشنگ شروع کرنے اور قیمت مقرر کرنے کے لیے 10روز کی مہلت دے دی ہے، مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں کسانوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں بدھ کو ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے مطالبہ کیا کہ گنے کی قیمت 650 روپے فی من مقرر کی جائے اور شوگر ملز مالکان کو فوری طور پر ملیں چلانے کا پابند بنایا جائے۔

کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تاحال گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کرشنگ شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث آبادگاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ درآمدی گندم ناقص ہے اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے گندم کی خریداری میں کرپشن کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں یکم اکتوبر سے اب تک 107 شوگر ملز نے کرشنگ شروع کردی ہیں۔ گزشتہ چار سال میں ڈیزل، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جبکہ شوگر ملز مالکان فی من گنے کی قیمت صرف 400 روپے مقرر کرنے خواہشمند ہیں جو کاشتکاروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے،

انہوں نے کہا کہ گنے کی کٹائی میں تاخیر سے گندم کی کاشت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کرشنگ سیزن میں تاخیر سے گنے کے وزن میں کمی اور کاشتکاروں کے نقصان کا خدشہ ہے۔

قبل ازیں، سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر دو روزہ مشترکہ احتجاجی کیمپ قائم کیا، جہاں کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کل شام کیا جائے گا، جس میں سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقے میں بڑے جلسے اور مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کے حوالے سے فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔