امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریاست نیو ہیمپشائر سے کامیاب ہونے والے ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس نے ملک کی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم کردیا وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے اعلانیہ ہم جنس پرست مرد بن گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 46 سالہ کرس پاپاس نے ریپبلکن جماعت کے سابق سینیٹر جان سنونو کو شکست دی۔ وہ اس نشست پر کامیاب ہوئے ہیں جو تین مرتبہ سینیٹر رہنے والی جین شاہین کے ریٹائر ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی۔
کرس پاپاس 4 جون 1980 کو نیو ہیمپشائر کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق یونانی تارکین وطن خاندان سے ہے۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز اپنے خاندان کے ریستوران کے کاروبار سے کیا۔
سیاست میں آنے سے قبل وہ خاندانی کاروبار سنبھالتے رہے بعدازاں ریاستی انتظامی کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 2018 میں پہلی مرتبہ امریکی ایوان نمائندگان کی نشست جیتی۔ وہ 2019 سے کانگریس کے رکن ہیں۔
پاپاس نیو ہیمپشائر سے کانگریس کے پہلے اعلانیہ ہم جنس پرست رکن بھی تھے۔ وہ اپنے پارٹنر وین بینٹلی کے ساتھ مانچسٹر میں رہتے ہیں۔
ان کی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے معاشی مسائل، صحت کی سہولتوں، خاندانی کاروباروں کے تحفظ اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی مخالفت کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔
کرس پاپاس نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ امریکی عوام موجودہ سمت سے مطمئن نہیں اور ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
ان کی کامیابی کو امریکا میں مختلف طبقات کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اعلانیہ عام ہم جنس پرست خواتین پہلے بھی امریکی سینیٹ کی رکن رہ چکی ہیں تاہم کرس پاپاس اس ایوان میں پہنچنے والے پہلے ہم جنس پرست مرد ہوں گے۔