کراچی: اساتذہ کا احتجاج، ریڈ زون میں داخلے پر مظاہرین پر واٹرکینن کا استعمال، ریرِحراست افراد رہا

اساتذہ اگست سے مطالبات کیلیے تحریک چلا رہے تھے،احتجاج اچانک نہیں کیا گیا، حکومت کو پہلے ہی 14 مطالبات پیش کردیے تھے


عائشہ خان انصاری November 04, 2026

کراچی:

سندھ بھر سے آئے پرائمری اسکول اساتذہ نے اپنے مطالبات منظور کروانے کیلئے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا، احتجاجی ریلی لے کر وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے واٹرکینن سے اساتذہ کو دھودیا،لاٹھی چارج اورشیلنگ بھی کی گئی،کئی اساتذہ زخمی ہوگئے جبکہ متعدد مظاہرین کوحراست میں لیا گیا جن کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی،کراچی پریس کلب سے احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد اساتذہ نے چودہ مطالبات کولےکر ریلی نکالی اوروزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی مگرپولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی،لاٹھی چارج اورشیلنگ کےساتھ ہی ساتھ واٹرکینن کا بھی استعمال کیا۔ہرطرف افراتفری پھیل گئی تھی۔کئی اساتذہ زخمی ہوئے جبکہ ایک استاد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے اساتذہ نے احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔

پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کی ٹیچر شبینہ خان نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اگست سے اپنے مطالبات کے لیے تحریک چلا رہے تھے، یہ احتجاج اچانک نہیں کیا گیا بلکہ حکومت کو پہلے ہی اپنے 14 مطالبات پیش کردیے گئے تھے۔ سب سے اہم مطالبہ پرائمری اساتذہ کے لیے سروس اسٹرکچر کی بحالی تھا، کیونکہ اساتذہ برسوں سے اپنے موجودہ گریڈز میں ہی کام کر رہے تھے اور ترقی کے مواقع محدود تھے۔

شبینہ خان کے مطابق پرائمری اساتذہ میں بعض 9ویں، 14ویں اور 16ویں گریڈ میں کام کر رہے تھے، جبکہ ہائی اسکول ٹیچرز کو ترقی کے مواقع مل رہے تھے اور ان کی ڈی پی سی بھی باقاعدگی سے ہوتی تھی۔ حکومت نے پرائمری اساتذہ کے لیے ایچ ایس ٹی کی آسامیوں کا سلسلہ بھی ختم کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سردار شاہ نے 5 اکتوبر کو پرائمری اساتذہ کو 20ویں گریڈ تک ترقی دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کے لیے پہلے باقاعدہ سروس اسٹرکچر دینا ضروری تھا تاکہ اساتذہ کو بھی ترقی کے مواقع مل سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا اہم مطالبہ ابتدائی تقرری کی تاریخ سے مستقل ملازمت شمار کرنے کا تھا۔ حکومت اساتذہ کی ملازمت کے ابتدائی تین سالہ کنٹریکٹ کے عرصے کو سروس میں شامل نہیں کرتی تھی، جس کے باعث ان کی ترقی اور گریڈ کی اپ گریڈیشن متاثر ہوتی تھی۔ سندھ میں ایسے سینئر پرائمری اساتذہ بھی موجود تھے جو 18 سال سے خدمات انجام دینے کے باوجود 9ویں گریڈ میں کام کر رہے تھے، جبکہ 2022 سے 2025 کے دوران بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ 14ویں گریڈ میں تعینات کیے گئے تھے۔

شبینہ خان نے مزید کہا کہ اساتذہ کا ایک مطالبہ بائیومیٹرک اور تبادلوں کے نظام کو ضلعی سطح پر بحال کرنے کا بھی تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے بائیومیٹرک اور تبادلوں کا نظام سندھ سیکریٹریٹ کے تحت کردیا تھا، جس کے باعث اساتذہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ اساتذہ کی مرضی اور سہولت کو مدنظر رکھے بغیر دور دراز علاقوں میں تبادلے کردیے جاتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تبادلوں اور بائیومیٹرک کے معاملات ضلعی سطح پر کیے جائیں تاکہ اساتذہ کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جاسکے۔

ڈسٹرکٹ وائس پریزیڈنٹ سائمہ خان نے کہا کہ چھوٹے سرکاری اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے کے بجائے اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کلسٹر حب پالیسی کے تحت پرائمری اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے سے پرائمری اساتذہ کی اصل حیثیت اور شناخت متاثر ہو رہی تھی۔ اساتذہ کو ان کی بنیادی ذمہ داریوں اور عہدوں سے ہٹ کر دیگر انتظامی امور بھی سونپے جا رہے تھے۔

احتجاج میں شریک ٹیچر کوثر نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب پیش قدمی کے دوران پولیس نے اساتذہ پر شدید شیلنگ کی اور ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اعجاز علی چانڈیو کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان کی قیادت کو رہا نہیں کیا جاتا اور مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اساتذہ واپس نہیں جائیں گے اور اسکول بھی نہیں کھولیں گے۔ کوثر نے بتایا کہ احتجاج میں حیدرآباد، میرپورخاص، جیکب آباد، میرپور ماتھیلو، سکھر، بے نظیرآباد سمیت سندھ کے مختلف اضلاع سے اساتذہ شریک ہوئے تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں پرائمری اسکولوں کی تعداد پہلے ہی کم ہوتی جا رہی تھی اور متعدد اسکولوں کو ہائر سیکنڈری یا بڑے اسکولوں میں ضم کیا جا رہا تھا۔ حیدرآباد کے تاریخی اور معروف فردوس پرائمری اسکول کو بھی ہائر سیکنڈری اسکول میں ضم کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ پرائمری اسکولوں کی الگ حیثیت برقرار رکھی جائے، پرائمری اساتذہ کے لیے سروس اسٹرکچر متعارف کرایا جائے اور انہیں ترقی کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔

اساتذہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سروس اسٹرکچر کی بحالی، گریڈز کی اپ گریڈیشن، ابتدائی تقرری کی تاریخ سے مستقل سروس کا شمار، تبادلوں اور بائیومیٹرک کا ضلعی سطح پر نظام، کلسٹر حب پالیسی کا خاتمہ اور اسکولوں کی انفرادی حیثیت برقرار رکھنے سمیت تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ مظاہرین نے واضح کیا تھا کہ مطالبات کی منظوری اور اپنی قیادت کی رہائی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

ریڈ زون جانے کی کوشش کے دوران حراست میں لیے گئے آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے تمام مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، جس کے بعد مظاہرین اپنی قیادت سمیت پریس کلب کے باہر کیمپ میں بیٹھ گئے۔  اس موقع پر اساتذہ کو وکلاء کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔مظاہرین کی قیادت کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔