پانی انسانی زندگی کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور جسم میں مناسب مقدار برقرار رکھنا صحت کے لیے اہم ہے۔ ماضی میں گھروں میں پانی ابال کر پینے کا رواج عام تھا، جبکہ اب بوتل بند اور منرل واٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق پانی کی بوتل کے معیار، پیکجنگ اور ذخیرہ کرنے کے طریقے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض کمپنیوں کی جانب سے ناقص معیار کی پلاسٹک بوتلیں استعمال کرنے سے پلاسٹک کے کچھ اجزا پانی میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بوتل بند پانی کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ ہر صورت میں وہ نقصان دہ ہے؛ اس کی حفاظت کا انحصار معیار، ضابطوں کی پابندی اور ذخیرہ کرنے کے حالات پر ہوتا ہے۔
منرل واٹر میں پوٹاشیم، سوڈیم، کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم اور سلفر سمیت مختلف معدنیات پائی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے بعض معدنیات ہڈیوں، عضلات اور جسم کے دیگر افعال کے لیے اہم ہیں۔ تاہم ہر بوتل بند پانی میں معدنیات کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔
دل کی صحت
پانی میں موجود بعض معدنیات جسم کے معمول کے افعال میں کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم منرل واٹر پینے سے کولیسٹرول یا ٹرائیگلیسرائیڈ کی سطح لازماً کم ہونے کا دعویٰ درست نہیں۔ دل کی صحت کے لیے متوازن غذا، ورزش اور ضرورت کے مطابق طبی علاج اہم ہیں۔
ہڈیوں کی مضبوطی
کیلشیم ہڈیوں کی ساخت اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ یہ دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کے علاوہ بعض اقسام کے منرل واٹر سے بھی حاصل ہوسکتا ہے، لیکن پانی میں کیلشیم کی مقدار برانڈ اور ماخذ کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔
قبض اور ہاضمہ
کچھ معدنی پانی میں میگنیشیم سلفیٹ اور سوڈیم سلفیٹ موجود ہوتے ہیں، جو مخصوص مقدار میں آنتوں کی حرکت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ہر منرل واٹر قبض کا علاج نہیں اور مسلسل قبض کی صورت میں طبی مشورہ ضروری ہے۔
پیکجنگ، دانت اور پلاسٹک سے متعلق خدشات
پانی کی تیزابیت اور معدنی ترکیب مختلف ہوسکتی ہے۔ بعض تیزابی مشروبات دانتوں کی سطح کو متاثر کرسکتے ہیں، لیکن تمام منرل واٹر کو دانتوں کے لیے نقصان دہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پلاسٹک کی بعض اقسام میں بسفینول اے (BPA) جیسے کیمیائی مادے استعمال ہوسکتے ہیں، جو مخصوص حالات میں صحت کے لیے تشویش کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم پلاسٹک کی ہر بوتل میں یہ مادہ موجود ہونے یا بوتل بند پانی سے کینسر ہونے کا دعویٰ ثابت شدہ نہیں۔ بہتر ہے کہ صارفین معیاری، ضابطوں کے مطابق تیار کردہ پانی استعمال کریں، بوتلوں کو دھوپ یا شدید گرمی میں نہ رکھیں اور بار بار استعمال کے لیے بنائی گئی بوتلوں ہی کو دوبارہ بھریں۔