واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے ساتھ مبینہ کاروباری اور مالی روابط رکھنے کے الزام میں بھارت اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایرانی حکومت کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا حصہ ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے آپریشن ’اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت لگائی گئی ہیں۔ اس کارروائی میں بھارت میں مقیم سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سنیل کمار شرما سے منسلک مزید 9 اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ ان افراد اور اداروں کے نیٹ ورک نے ایران سے تیل کی ترسیل کرنے والے جہازوں کو جعلی پرچم اور سرٹیفکیٹس فراہم کیے، جس کے ذریعے ایرانی تیل کی نقل و حمل کے لیے بحری فراڈ میں معاونت کی گئی۔
اس کے علاوہ ترکیہ کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق کمپنی نے ایران کے فضائی شعبے کی معاونت کی، جبکہ اس پر ایران کے خفیہ آئل ٹینکر نیٹ ورک سے منسلک سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کا بھی الزام ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ آپریشن ’اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت واضح پیغام دیا جارہا ہے کہ ممالک، کمپنیوں اور افراد کو ایران کی معاونت کے معاملے پر امریکی پالیسی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی مسلسل مدد کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کی جاتی رہیں گی۔