ناسا کی 22 سالہ سوئفٹ خلائی دوربین زمین کی فضا میں داخل ہوکر جل گئی

اس واقعے کے ساتھ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط خلائی دوربیس کا سائنسی مشن اختتام پذیر ہوگیا


ویب ڈیسک November 05, 2026

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور سوئفٹ خلائی دوربین نے کائنات کے پراسرار واقعات کا 22 سال تک مشاہدہ کرنے کے بعد اپنا سفر مکمل کرلیا۔

ناسا کے مطابق یہ سیٹلائٹ 4 نومبر کو زمین کے مدار سے نکل کر فضا میں داخل ہوئی اور انڈونیشیا کے اوپر جل کر تباہ ہوگئی۔ اس واقعے کے ساتھ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اس کا سائنسی مشن اختتام پذیر ہوگیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تقریباً 1452 کلوگرام وزنی دوربین کے زمین کی فضا میں داخل ہونے کی امریکی خلائی فورس نے بھی تصدیق کی۔ یہ واقعہ امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر پیش آیا، جب سیٹلائٹ تقریباً آواز کی رفتار سے 22 گنا زیادہ تیزی سے فضا میں داخل ہوئی۔ شدید رگڑ اور حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر ختم ہوگیا، تاہم امکان ظاہر کیا گیا کہ کچھ چھوٹے ٹکڑے زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ ناسا کے مطابق کسی جانی نقصان یا زمین پر کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سیٹلائٹ فضا میں جس مقام پر داخل ہوئی، وہ شمالی سماٹرا کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر میڈان سے کتنے فاصلے پر تھا۔ میڈان میں تقریباً 25 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جبکہ پورے صوبے کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ 60 لاکھ ہے۔ امریکی خلائی فورس نے پہلے اندازہ لگایا تھا کہ سیٹلائٹ کے ملبے سے کسی آبادی کو نقصان پہنچنے کا امکان نہایت کم ہے۔ ادارے کے مطابق زمین پر کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا خدشہ 2100 میں سے ایک تھا۔

برطانیہ کی صنعتی کمپنی ایکیو کمپونینٹس سے وابستہ ایرو اسپیس انجینئر ڈین سلیڈن نے بھی فضا میں داخلے سے قبل کہا تھا کہ سیٹلائٹ کے صرف چند چھوٹے اور جلے ہوئے ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کی توقع ہے، جن سے دوربین کی اصل شکل پہچاننا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس حجم کے سیٹلائٹس کا فضا میں دوبارہ داخل ہونا معمول کا عمل ہے اور خلائی تاریخ میں اب تک خلا سے گرنے والے ملبے کے باعث کسی شخص کی موت نہیں ہوئی۔ تاہم انہوں نے مستقبل میں اس نوعیت کے خطرات بڑھنے کے امکان کے پیش نظر سیٹلائٹس کو محفوظ واپسی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

سوئفٹ دوربین کا سائنسی مشن

تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ دوربین کا بنیادی مقصد کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں کا مطالعہ کرنا تھا۔ یہ واقعات ’گاما رے برسٹس‘ کہلاتے ہیں اور کائنات میں توانائی کے شدید ترین اخراجات میں شمار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دوربین میں تین مختلف اقسام کے آلات نصب کیے گئے تھے، جو مختلف طولِ موج پر خلائی واقعات کا مشاہدہ کرتے تھے۔

2004 میں خلا میں بھیجے جانے کے بعد سوئفٹ نے گاما رے دھماکوں کے علاوہ سیکڑوں سپرنووا، بلیک ہولز کی جانب سے ستاروں کو نگلنے کے واقعات، ستاروں سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعوں، شہابیوں اور دمدار ستاروں کا بھی مطالعہ کیا۔ ناسا کے مطابق اس دوربین کے مشاہدات کی بنیاد پر اب تک تقریباً 7 ہزار سائنسی تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔

سوئفٹ کو ابتدائی طور پر صرف دو سال تک کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے مقررہ مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں۔ دوربین میں اپنا مدار تبدیل کرنے کے لیے انجن یا کوئی نظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ اس کا مدار غیر مستحکم ہوتا چلا گیا۔

ناسا نے سوئفٹ کو مزید کئی برس تک فعال رکھنے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک ریسکیو مشن شروع کیا تھا۔ ایریزونا میں قائم اسٹارٹ اپ کمپنی کیٹالسٹ کے تعاون سے ’لنک‘ نامی خلائی جہاز تیار کیا گیا، جس کا مقصد سوئفٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اسے زیادہ بلند اور محفوظ مدار میں منتقل کرنا تھا۔

تاہم یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ خلا میں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد لنک خلائی جہاز بے قابو ہوکر گھومنے لگا، جس سے مشن کو مشکلات پیش آئیں۔ اگست کے وسط تک منتظمین نے ریسکیو کی کوشش ترک کردی اور سوئفٹ کو زمین کی جانب واپس آنے کے لیے چھوڑ دیا۔ دوربین نے 20 اکتوبر کو اپنا سائنسی مشن ختم کردیا تھا، تاہم وہ مدار میں گردش کرتی رہی۔ بالآخر 4 نومبر کو فضا میں داخل ہوکر جل گئی اور اپنے 22 سالہ خلائی سفر کا اختتام کردیا۔