ایران میں سوشل میڈیا پر سرگرم امیرحسین موسوی کو ایکس اور انسٹاگرام پر سرگرمیوں کے باعث سزائے موت سنا دی گئی اور ساتھ ہی ملزم کو پانچ سال قید بھی کاٹنا ہوگی۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امیر حسین موسوی سوشل میڈیا پر اپنے اصل نام کے بجائے ’’جیمز بی دین‘‘ اور ’’جیمز بی ڈین‘‘ کے نام سے سرگرم تھا۔
انھیں شناخت کے بعد 18 دسمبر 2024 کو تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جزیرہ کیش جانے کی تیاری کررہے تھے۔
ملزم کے وکیل رضا شفاخواہ نے بتایا کہ ایران کی انقلابی عدالت نے انھیں ’’زمین میں فساد‘‘ کے الزام میں سزائے موت دی۔ ان کے خلاف 5 سال قید کی سزا مذہبی مقدسات کی توہین کے الزام میں سنائی گئی۔
ان کی بہن سعیدہ موسوی نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے سزا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملزم امیر حسین نے دورانِ حراست 148 دن قیدِ تنہائی میں گزارے اور تشدد و دباؤ کا سامنا کیا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں سرکاری ٹیلی وژن پر ان کا ایک اعترافی بیان بھی نشر کیا گیا تھا تاہم موسوی نے بعد میں جیل سے خط میں دعویٰ کیا کہ یہ بیان دباؤ اور دھمکیوں کے تحت ریکارڈ کرایا گیا تھا۔