بھارت: کھیل کود کے بعد 9 سالہ بچی کی اچانک موت

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیل کود سے بچوں کو روکنا حل نہیں، بلکہ خطرے کی علامات کی بروقت شناخت اور فوری طبی امداد ضروری ہے۔


ویب ڈیسک November 06, 2026

بھارت میں اسکول میں کھیل کود کے بعد 9 سالہ طالبہ کی اچانک موت نے والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا زیادہ جسمانی سرگرمی بچوں کے دل پر خطرناک دباؤ ڈال سکتی ہے؟

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے میور وہار میں تیسری جماعت کی طالبہ کھیل کے پیریڈ کے بعد کلاس روم میں اچانک گر گئی۔ اسے فوری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔

اسکول انتظامیہ نے دل بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

کیا زیادہ کھیل کود دل کے لیے خطرناک ہے؟

ماہرین کے مطابق بچوں میں اچانک دل بند ہونا غیر معمولی ہے، تاہم بعض اوقات پیدائشی دل کی بیماری، دل کی دھڑکن میں موروثی خرابی یا دل کے پٹھوں کی بیماری جسمانی مشقت کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ایسی بیماریاں بعض بچوں میں پہلے سے موجود ہونے کے باوجود ظاہر نہیں ہوتیں۔

تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ عام کھیل کود اور ورزش بچوں کی صحت کے لیے ضروری اور فائدہ مند ہیں۔

والدین کن علامات کو نظرانداز نہ کریں؟

ماہرین نے ورزش کے دوران بے ہوشی، سینے میں درد، غیر معمولی سانس پھولنے، چکر آنے اور دل کی بے ترتیب دھڑکن کو اہم انتباہی علامات قرار دیا ہے۔

اگر خاندان میں کم عمری میں اچانک موت یا موروثی دل کی بیماری کی تاریخ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بھی ضروری ہے۔

اسکولوں کے لیے اہم ہدایات

ماہرین کے مطابق اگر کوئی بچہ اچانک بے ہوش ہو جائے، ردعمل نہ دے اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو تو فوری ایمرجنسی مدد طلب کر کے سی پی آر شروع کرنا چاہیے اور دستیاب ہونے پر اے ای ڈی استعمال کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیل کود سے بچوں کو روکنا حل نہیں، بلکہ خطرے کی علامات کی بروقت شناخت اور فوری طبی امداد ضروری ہے۔