ظہران ممدانی کے بعد امریکا کے ایک اور بڑے شہر میں ایشیائی نژاد میئر منتخب

45 سالہ نیتھیا رامن بھارت میں پیدا ہوئیں اور چھ برس کی عمر میں امریکا منتقل ہوگئی تھیں


ویب ڈیسک November 06, 2026

امریکی شہر لاس اینجلس میں بھی ایشیائی نژاد خاتون میئر منتخب ہوگئی ہیں۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کی حمایت یافتہ نیتھیا رامن نے موجودہ میئر کیرن باس کو شکست دے کر شہر کی قیادت حاصل کرلی ہے۔ اس سے قبل نیویارک میں ظہران ممدانی بھی میئر منتخب ہوئے تھے۔

امریکی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق نیتھیا رامن نے میئر کے انتخاب میں 52.1 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ کیرن باس 47.9 فیصد ووٹ لے سکیں۔ کیرن باس نے جمعرات کو شکست تسلیم کرتے ہوئے رامن کو فون کرکے کامیابی پر مبارک باد دی اور اقتدار کی پُرامن منتقلی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

45 سالہ نیتھیا رامن بھارت میں پیدا ہوئیں اور چھ برس کی عمر میں امریکا منتقل ہوگئی تھیں۔ وہ 2020 میں لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ وہ شہر کی پہلی جنوبی ایشیائی اور ایشیائی امریکی میئر ہوں گی۔

نیتھیا رامن کی کامیابی کو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ اس تنظیم نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی بھی حمایت کی تھی۔ رامن کی انتخابی مہم میں سستی رہائش، بے گھر افراد کے مسئلے، شہری سہولتوں اور عوامی تحفظ کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔

لاس اینجلس میں رامن کی کامیابی کے ساتھ امریکی سیاست میں ترقی پسند اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی پیش قدمی ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس اینجلس کے انتخابی نتائج پر تنقید کرتے ہوئے انہیں افسوس ناک قرار دیا اور انتخابی عمل کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

نیتھیا رامن کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔