گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سیکیورٹی کے حوالے سے بریفنگ کے دوران شرکاء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور امن و امان کا قیام سب سے پہلی ترجیح ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایپیکس کمیٹی کا اجلاس پشاور میں وزیراعظم اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں ہوا، خیبر پختونخوا حکومت نے سیکیورٹی ضروریات کے لیے 160 ارب روپے کا مطالبہ کیا جس کی وفاق نے تائید کی، وفاق کے ساتھ تمام سیکیورٹی اور ترقیاتی امور پر رابطہ کاری اور فالو اپ اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا عزم کرتے ہیں، شکست ہماری ڈکشنری میں نہیں، پولیس کو محض کلاشنکوف اور محدود گولیوں کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا، ہر ممکن سپورٹ فراہم کی جائے گی، شہداء پیکجز اور تنخواہوں میں بہتری کے ساتھ پولیس کو جدید اسلحہ اور ایمونیشن دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں تاحال ایک بھی پولیس لائن نہ بننے پر تشویش ہے، سیکیورٹی فورسز کو اون نہ کرنا سب سے بڑی خامی تھی، اب سیکیورٹی کی مکمل پولیٹیکل اونرشپ لی جائے گی، صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں، خیبر پختونخوا کی پالیسی اب اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد، قندھار یا کابل سے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے تحت پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے اچھے اقدامات کو اپنایا جائے گا، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف انڈیا کی سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے، افغان حکام کی جانب سے پشاور پر قبضے جیسے بیانات اور ڈرون کی آمد پر ماضی میں خاموشی افسوسناک تھی، ریاست، آئین اور قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا، دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی نافذ ہے، ترقیاتی کام، سڑکیں اور پل تبھی مفید ہیں جب انسان اور عوام کی زندگی محفوظ ہو، عوام کا اعتماد بحال کر کے اور پولیس و عوام کا رابطہ مضبوط بنا کر آدھی جنگ جیتی جا سکتی ہے، صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا ترجیح ہے، اس جنگ میں شکست یا واپسی کا کوئی آپشن نہیں۔